Tuesday, 25 December 2018

اسے منافقت کہتے ہیں

" اسے منافقت کہتے ہیں "
اگر برےارادوں کو اچھے عمل کے پردے میں پروان چڑھانے کا مقصد چھپا ہوا ہو تو اسے منافقت کہتے ہیں ۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے جب ایک شہزادہ ، بادشاہ بننے کیلئے عوام کے سامنے آیا کرتا تھا تو اپنی تقریر کا آغاز " ایاک نعبد و ایاک نستعین " سے کیا کرتا تھا ۔ جب وہ کہتے نہیں تھکتا تھا کہ ملک سے غربت کا ایسا خاتمہ کرے گا کہ کوئی زکوٰة لینے والا نہیں ملے گا ۔ پاکستان کا نظام مدینہ کی ریاست کے انداز پر چلے گا ۔ قوم کو امید تھی کہ " عزم و استقلال " کا یہ مرد مجاہد ایسا کر گذرے گا ۔ لوگ سوچتے تھے کہ آزاد خیالی میں زندگی گذارنے والا شخص ایسے کیسے بدل جائے گا ۔ مگر مدینہ المنورہ کی گلیوں میں عقیدت کی مثال ننگے پاوں چل کر قائم کر دینے سے یقین آ جانا مسلمان کا  ایمانی جذبہ ہے ۔ مدارس کو مالی مدد کے اعلانات ، علماء کی تنخواہوں کا تقرر ، تعلیمی نصاب میں ناظرہ اور با ترجمہ قرآن کی تعلیم کو شامل کرنے کا اعلان وغیرہ وغیرہ کافی ثبوت تھے کہ بادشاہ سلامت کی اسلام سے لگن نہایت پختہ ہے ۔ یہ ابھی چند ماہ پہلے کی باتیں ہیں ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں جو بھی حکمران آتا ہے ،  وہ ملک کو باپ کی وراثت سمجھ لیتا ہے اور بادشاہ بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔ چند درباری " بھونکنے " پہ لگا دئیے جاتے ہیں ، چند لوٹنے پہ ، قاضی بادشاہ کا میراثی بن جاتا ہے اور ملک کا داروغہ آزاد ہو جاتا ہے ۔ پھر کمزور کی گردن پہ پھندے کسنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ محلات کے راستے میں آنے والے غرباء کے گھونسلے یا تو اچانک آگ میں جلتے نظر آتے ہیں یا تجاوزات کہہ کر بلڈوزر گرانے آجاتے ہیں اور پھر انہی پلاٹوں پر نئے پلازے تعمیر ہوتے ہیں ۔ پہلے بھی یہی ہوا ، اب بھی یہی ہو گا ۔
مدینہ کی ریاست کے قیام کی بات کرنے والوں کو شراب پر پابندی پسند نہیں ۔ آزادی خیال میں جس کا دل کرے ناموس رسالت کی تضحیک کر ڈالے ، اور جو اس پر احتجاج کرے اسے پکڑو اور جیل میں ڈال دو ۔ ریاست کے مزاج کے مطابق گیارہ سو سینما ہونے چاہئیں ، اسکی تیاری شروع کرنے کا عندیہ مل گیا  ہے ۔ کوئی بھی درباری کسی بھی شہری کے منہ پہ تھپڑ مار دے اور چند لوٹے ہوئے سکے اس خزانے میں جمع کرادے جو خزانہ خود   انہی لوگوں کے استعمال آئے گا  ۔ بات ختم ۔ قاضی کی مرضی ہے کہ جس کی چاہے سر عام پگڑی اچھال دے ۔ معاہدہ کرو اور مکر جاو کیونکہ آپ بادشاہ ہیں ۔
ارے جناب اسی قول و فعل کے تضاد کو منافقت کہتے ہیں اور منافق پر اعتبار قوموں کو لے ڈوبتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment