" پتھر ہیں پتھر "
بھرے بازار میں ایک عمر رسیدہ شخص چھوٹی سی اونچائی پہ کھڑا بول رہا تھا ۔
" ارے ہیرے جواہرات اکٹھا کر کے کیا کرو گے ؟ کہاں لے جاوگے ؟ کبھی غور تو کرو ان میں رکھا کیا ہے ؟ یہ بیکار پتھر ہیں ؟ کسی کام نہیں آتے ؟ ان سے لاکھ درجہ بہتر ہیں وہ پتھر جو تمہارے قدموں لیٹ کے ہموار سڑک بن جاتے ہیں ۔ جن سے تم اپنے گھر بنا لیتے ہو ، جن کو سیلاب کے پانی کا زور توڑنے کیلئے استعمال کر لیتے ہو ۔ تم انسان دیوانے ہوگئے ہو ۔ بیکار چمکتے پتھروں پہ جان دیتے ہو "
دیہاتی رنگ ڈھنگ میں بولنے والا شکل و صورت سے نہ پاگل دکھائی دے رہا تھا اور نہ عالم نظر آ رہا تھا ۔ لوگ اسکی باتیں سن کر اشاروں کی زبان میں اسے پاگل کہہ رہے تھے ۔
" بابا چریا ہو گیا ہے "
" پھرکی گھوم گئی ہے "
اکثریت کی مشترکہ رائے تھی ۔
" ارے دیوانو ، جس سونے کے پیچھے خوار ہو ، اس سے لوہا بہتر ہے ، کم از کم اپنے استعمال میں لاتے ہو ، تمہیں فائدہ دیتا ہے ، تمہاری صنعتیں چلاتا ہے ۔ سونے سے کیا کیا بنا سکتے ہو ؟ "
نیا فلسفہ ، نئی سوچ اور نیا رنگ ۔
" بڑے میاں ! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟ "
ایک نوجوان نے ناگواری سے پوچھا
" یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کو شیطان نے گمراہ کر دیا ہے ۔ ہیرے جواہرات اور سونا چاندی کے پیچھے لگا دیا ہے ۔ یہ پرانے بادشاہوں کی ہوس پرستی کے شوق تھے ۔ اللہ والوں کو کبھی اس سے رغبت نہیں رہی ۔ یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ والے بن جاو ۔ یہ سب چکا چوند بے معنی ہو جائے گی ۔ اس کے پیچھے بھاگنا چھوڑو گے تو اللہ کیطرف قدم بڑھنے لگیں گے ۔ آخرت کی فکر ہوگی ۔ اپنا بھلا کر لو گے ۔ فلاح کیطرف بڑھنے لگو گے ۔ اسے اپنے دماغوں سے نکال کر تو دیکھو "
بڑے میاں کی بات میں ایک چبھتا ہوا اور اکثریت کیلئے نا قابل قبول سچ تھا ۔ ہم نے اسی دوڑ میں ، اصل سفر کو بھلا دیا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ دسمبر ٢٠١٨
Tuesday, 25 December 2018
پتھر ہیں پتھر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment