" تجسس "
اکثر تنہائی میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے اور مجھ سے بے شمار انسانوں کی تخلیق کس لئے کی . میری زندگی کا کیا مقصد تھا . اس دنیا میں ایک عمر گذار لینے کے بعد آخر میں نے کونسا ایسا کام کیا , جس سے انسانیت کو , اللہ کے دین کو اور دنیا کے کو کوئی فائدہ ہوا ہو . عبادت بھی اس خضوع و خشوع سے نہیں کر سکا , جو اللہ کی رضا کے عین مطابق ہوتی . اپنی زندگی کے آخری سفر کا زاد راہ دیکھتا ہوں تو تہی دامن ہوں . ایک امید , ایک یقین کہ رب کی ذات غفور ہے رحیم ہے . بس یہی ایک تشفی ہے جو ڈھارس بندھائے رکھتی ہے . بہت تمنائیں تھیں , اس بچے کیطرح جو پہلی کلاس تو پڑھ نہیں سکا اور ڈگری اعلی تعلیم کی مانگے . اللہ نے جو امتحان ڈالا , پتہ نہیں کہ کامیابی ہوئی بھی کہ نہیں .
عمر کا لمبا سفر , جہاں مہمان کیطرح آیا تھا , ہمیشہ کا سامان باندھنے میں لگا رہا , جہاں لمبا عرصہ قیام کرنا ہے وہاں کیلئے کچھ بھی پلے نہیں باندھا .
تجسس کی کشمکش کہ میری زندگی کا مقصد کیا تھا . اب حساب کرتا ہوں تو ساری ساری رات آنکھوں میں گذر جاتی ہے . حسرت ہوتی ہے ان پر , جن کو اللہ اپنے کسی بڑے مقصد کے ساتھ زندہ رکھتا ہے , جن کو کسی خدمت کیلئے چن لیتا ہے . ان کی قسمت پر رشک کرتا ہوں . تو چند ٹھنڈی سانسوں کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا . نہ جانے منوں مٹی اوڑھنے سے پہلے مجھے اپنی زندگی کا کوئی مقصد سمجھ بھی آئے گا کہ نہیں , نہ جانے مجھ سے کوئی خدمت لی جائے گی کہ نہیں . نہ جانے وہ کیسی دعا ہوتی ہے جو اللہ رد نہیں کرتا . یہ تجسس ایک بے چینی سی بنتا جا رہا ہے .
ازاد ھاشمی
30 دسمبر 2017
Saturday, 29 December 2018
تجسس
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment