" بڑے لوگ "
کبھی کبھی اپنے ناقص العقل ہونے کا یقین ہو جاتا ہے ۔ کہ جن کو اکثر " بڑے لوگ " کہا جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا پیمانہ ہے جو کسی کو چھوٹا اور کسی کو بڑا کر دیتا ہے ۔ یہ بڑے لوگ کیا اور کیوں ہوتے ہیں ۔ شاید جس کے پاس دنیا کا مال و متاع زیادہ ہوتا ہے ، اسے " بڑے لوگ " ہونے کا اعزاز مل جاتا ہے ، یا شاید جس کے پاس کرسی اور اقتدار آجائے وہ بڑا ہو جاتا ہے ۔ میں نے تو جو سیکھا اور جو پڑھا اس میں ، قارون کے پاس اتنی دولت تھی جس تک کسی دوسرے کو رسائی نہیں ملی ، اس سے زیادہ بدبخت دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہوا ۔ اقتدار تو فرعون کو بھی ملا ، نمرود کو بھی ، یزید کو بھی ۔ یہ سب کے سب تو ملعون ہوئے اور آج ہر کوئی تحقیر سے یاد کرتا ہے ۔ معلوم یہ ہوا کہ دولت اور اقتدار کسی کو بڑا نہیں بناتے ۔ ہم تو پستی کے اس درجے پہ آگئے ہیں ، ہر کردار باختہ کو بھی " بڑے لوگ " کہنے لگ گئے ہیں ۔ قوم کا خون چوس کر اپنا جاہ و جلال قائم رکھنے والوں کیلئے مناسب ترین نام " لٹیرا " ہے ۔ ہم لٹیروں کو بڑے لوگ کہہ کر اپنی عقل اور فہم کا از خود مذاق بناتے ہیں ۔ اور یہ ایک گھٹیا سوچ ہے کہ ہم انہیں " بڑے لوگ " کہتے ہیں جو انتہائی " نیچ اور کمینے " ہوتے ہیں ۔
بڑا وہ ہوتا ہے جس سے اللہ خوش ہو ۔ جو اللہ کے حکم پر چلے ، جو اسوہ حسنہ سے رہنمائی لیکر زندگی کا تعین کرے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو آزار نہ پہنچے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھے ، جس کے اردگرد کوئی بھوکا نہ سوئے ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جو کفر اور ایمان میں تمیز رکھتا ہو ۔ بڑا وہ ہوتا ہے جس سے عجز و انکساری نظر آتی ہو ۔ تکبر اور رعونت تو چھوٹا پن ہے ۔ بڑا وہ ہے جو خود کو چھوٹا سمجھے ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ دسمبر ٢٠١٨
Sunday, 30 December 2018
بڑے لوگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment