Saturday, 5 January 2019

حکیم کی حکمتیں

" حکیم کی حکمتیں "
" کیا بات ہے بیٹا ! بہت دنوں سے غائب تھے ؟ "
بابا جی نے مجھے دیکھتے ہی پیار اور محبت کی گہرائی میں ڈوبی آواز سے پوچھا ۔
" طبیعت ٹھیک نہیں ۔ ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہ مرض آرہا ہے اور نہ علاج تجویز کر پا رہے ہیں ۔ ٹیسٹ کروائے ہیں مگر کوئی مرض بھی ظاہر نہیں ہوا ۔ اچانک میرے سر اور جسم میں رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ، ایسے لگتا ہے کہ کسی نے کرنٹ والا تار نکال دیا ہے ۔  پھر جلد لوٹ آتا ہے "
میری مایوسی دیکھ کر بابا جی نے ، کڑاہی کے نیچے جلتا چولہا بند کیا ۔
" چلو میرے ساتھ ۔ ایک حکیم ہے ، جس کی حکمتیں کسی اور کے پاس نہیں ۔ اسکے پاس چلتے ہیں "
بابا جی نے میرا ہاتھ نہایت محبت سے پکڑا اور مسجد کی جانب چل دئیے ۔ " "میں بچپن سے اس علاقے میں رہتا ہوں ، اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس علاقے میں کوئی حکیم نہیں ۔ "
میں نے بابا جی سے کہا ۔
" یہی تو بات ہے بیٹا ۔ کہ ہم اس حکیم کو بھول گئے ہیں ، جو سب حکمتوں کا مالک ہے ۔ ہمارا یقین ہی تو قائم نہیں رہا ۔ "
ہم مسجد کے اندر تھے ۔
" اس حکیم کے پاس جانے کیلئے پاکیزگی ضروری ہے " وضو کرنے کے بعد بابا جی مسجد کے ایک کونے میں لے گئے ۔
" لے بیٹا ! دو نفل پڑھ اور اپنا سارا مرض سجدے میں حکمتوں کے مالک سے کہہ دے ۔ اسوقت تک کہتا رہ ، جب تک تیرا دل گواہی دے کہ تیری مرض سنی گئی ہے ۔ بھلے سجدہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو جائے ۔ بولتا رہ ، جو دل میں آئے ۔  جو جو بھی دوا چاہئے مانگ لے ۔ رونے کو دل کرے تو رو بھی لینا "
بابا جی مجھے چھوڑ کر دوسرے کونے میں جا کر نفل پڑھنے لگ گئے ۔ مجھے لمحہ لمحہ سکون ملتا رہا ۔ صرف دو سجدے اور استراحت کی عجیب کیفیت ، میرے لئے عجیب سا لمحہ تھا ۔ ہم واپس ریہڑھی پر کھڑے تھے ۔
" لے بیٹا ! اب تو جا ۔ جب پھر تکلیف محسوس کرو ، ادھر آ جانا ، اس سے بڑا ڈاکٹر کوئی نہیں "
آزاد ھاشمی
٤ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment