Thursday, 3 January 2019

اس سال میں

" اس سال میں "
زندگی کے شب و روز یونہی بدلتے رہتے ہیں ، کبھی خوشیاں اور کبھی غم ۔ آس اور امیدیں کبھی پوری اور کبھی ادھوری رہ جاتی ہیں ۔ گئے سال کے کئی خواب حسرتوں میں بدل جاتے ہیں ۔ یونہی  لمحہ لمہ ہو کر سال بنتا ہے اور   گذر جاتا ہے ۔ پھر اک نیا سال ، نئے ولولے ، نئے خواب اور نئی امیدیں لیکر آتا ہے ۔  کچھ  لوگ سال کے لمحہ لمحہ گنتی کیلئے پیدا ہوتے ہیں اور جس چکی میں باپ پس رہا تھا ، اسی چکی میں پسنے کیلئے جوان ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے میں ایسے بیشمار لوگ ملتے ہیں ، جنہیں کوئی " نیا سال مبارک ہو " بھی نہیں کہتا ۔ وہ جن کو اللہ نے فراوانی اور کشائش دی ہوتی ہے ، وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق " نئے سال " کا اہتمام کرتے ہیں ۔
کیا ممکن ہے کہ ہم اس نئے سال پر ایک عزم کر لیں کہ اللہ نے جو بھی عطا کر رکھا ہے ، اس کا کچھ حصہ اپنے کسی بھائی کے نام کر دیں ۔ کیا ممکن ہے کہ اگر ہم کسی یتیم کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کی استطاعت رکھتے ہیں تو اس پر عمل کر دیں ۔ اگر ہمارے اردگرد کوئی بیوہ موجود ہو تو اسکا بھائی بن کر ، اسکا بیٹا بن کر یا اسکا باپ بن کر اسکی کفالت کا ذمہ اٹھا لیں ۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ پہلا سال ہو گا ، جسکی مبارک لینے کے حقدار بن جائیں گے ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیسا سال ، کیسی تبدیلی ، کیسی خوشی ۔ اگر ہم گئے سال کیطرح ہی اپنی ذات تک محدود ہیں ۔ تو اس سے نہ اللہ راضی اور نہ اللہ کی مخلوق کو فائدہ ۔
آزاد ھاشمی 
٣١ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment