Thursday, 3 January 2019

نیا سال کیا ہوتا ہے

" نیا سال کیا ہوتا ہے "
ماں نے معصوم بچے کو سینے سے لگاتے ہوئے اشک بار آنکھوں سے بوسہ دیا ۔ بوٹ پالش کرنے کا سامان اسے تھماتے ہوئے بولی ۔
" بیٹا ! ساحل سمندر کے آس پاس چلے جانا۔ وہاں بہت رش ہوگا ، اچھی دیہاڑی مل گئی تو آج مرغی والے چاول پکا لیں گے ۔ نیا سال ہے ، پہلے دن اچھا کھانے کو ملا تو سارا سال اچھا کھائیں گے "
یہ مائیں بھی عجیب مخلوق ہوتی ہیں ، اپنے دکھ کو چھپا لینے کی جو مہارت انہیں ہوتی ہے ، کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں ۔
" ماں آج چھٹی نہ کر لوں؟ بہت دل کر رہا ہے کھیلنے کو ۔ گلی کے سارے بچے پٹاخے چلا رہے ہیں ، ان کے ساتھ کھیلوں گا " بچے نے بوٹ پالش کرنے کا سامان اتارنے کی کوشش کے ساتھ کہا ۔ پھر دوبارہ کندھے پر چڑھاتے ہوئے بولا ۔
" اچھا ٹھیک ہے ماں ۔ جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ تو محلے کے بچے کھیلتے ہی نہیں ۔ آج پپو کی ماں پپو سے کہہ رہی تھی ، نیا سال ہے کسی غریب سے دوستی نہ کرنا "
بچے کے الفاظ نے ماں کا سینا چیر دیا ۔ ماں نے اسے سینے سے بھینچتے ہوئے کہا ۔
" دیکھنا ، ایک دن تم بھی بہت امیر ہو جاوگے ۔ بس ہمت نہیں ہارنا میرے چاند "
ہر ماں کا خواب تو یہی ہوتا ہے ،  مگر تقدیر تو ماں نہیں لکھتی ۔ تقدیر تو لکھنے والی کوئی اور ہستی ہوتی ہے ۔ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ ہمت اور استقلال سے تقدیر بدل بھی جایا کرتی ہے ۔ اللہ معجزے بھی انہی کے نصیب میں کرتا ہے جو ہمت نہیں ہارتے ۔ ماں کے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے گونجتے وہ جوان ہو گیا تھا ۔ کئی سال پہلے بوٹ پالش کیلئے جانے والا ، آج کلفٹن کی اسی جگہ کھڑا ، بوٹ پالش کرنے والے بچوں سے کھیل رہا تھا ۔ لمبی چوڑی چمکتی کار سے اتر کر وہ زمین پہ بیٹھا ، ہاتھ میں برش پکڑے بچوں کو اپنی کہانی سنا رہا تھا ۔ عزم اور ارادے کا سبق پڑھا رہا تھا ۔ تقدیر کو اپنے انداز سے بدلنے کے گر سکھا رہا تھا ۔
" بچو ! بھیک مت مانگنا اور کوئی دے تو مت لینا ۔ یہ وہ زہر ہے جو ارادوں کو قتل کر ڈالتا ہے ۔ بوٹ پالش کرنا ، نہ شرم کی بات ہے اور نہ گھٹیا پن ۔ محنت ہے اور محنت وہ درخت ہے جس پر ہر وقت پھل لگا رہتا ہے "
بجھے ہوئے ، اداس چہروں کو ہر نئے سال کے پہلے دن ، وہ اسی جگہ بچوں کو " ہمت اور استقلال " کا درس دینے آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
یکم جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment