" زندگی کی جمع پونجی "
کھولتا ہوا تیل ، بابا جی کے ہاتھ پہ گرا ، چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ تکیلف کی شدت برداشت سے باہر ہے ۔
" الحمدللہ ۔ اللہ تیرا شکر ہے "
بابا جی نے ہاتھ پر بیسن کی تہہ چڑھاتے ہوئے کہا ۔ سب گاہک حیران تھے کہ اس میں شکر والی کیا بات ہے ۔ آخر ایک نوجوان نے اداس چہرے سے پوچھ ہی لیا ۔
" باباجی ! کچھ کمایا ہوتا تو نہ آپ پکوڑے بناتے اور نہ یہ ہاتھ جلتا ۔ اس میں شکر والی کیا بات ہے ؟ آپ نے اپنے ساتھ دھوکہ کیا ہے کہ ان پکوڑوں سے آگے سوچا ہی نہیں ۔ ہر تکلیف پہ شکر کی عادت خود فریبی ہے "
بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
" بیٹا ! یہ سمجھنے کیلئے ایک عمر چاہئے ، شکر الحمدللہ کہنے کی عادت ایک ریاضت کے بعد ملتی ہے ۔ یہی میری زندگی کی پونجی ہے ۔ بس یہی کمایا ہے میں نے کہ جب بھی تکلیف ملتی ہے اس پر آزردہ نہیں ہوتا ہوں ۔ جو اتنی استراحتیں نصیب کرتا ہے ، روز رات کو مرتا ہوں اور صبح کو زندہ اٹھتا ہوں ، کیا اس سے چھوٹی چھوٹی تکلیف پہ گلہ کرنے کا حق باقی رہتا ہے ؟ "
بابا جی پانی پیا اور پھر بولے ۔
" میں بھی غفلت میں تھا ، دولت اور دھن کے پیچھے رات دن بھاگتا رہا ۔ دولت آئی تھی میرے پاس بھی ۔ میں اکڑ گیا تھا ، تکبر آ گیا تھا مجھ میں ۔ پھر میرے رب نے مجھے ایک رات میں غریب کردیا ۔ میرے اپنوں نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا ۔ میں نے گھر بار چھوڑا اور یہاں آکر پکوڑے بیچنے لگا ۔ اب میرا دل اطمینان سے بھر گیا ہے ۔ مجھے یقین ہوگیا ہے کہ سب عارضی ہے ۔ یہ یقین ہونا کہ سب عارضی ہے۔ یہ یقین میری دولت ہے ، میری زندگی کی پونجی ہے ، میرے اللہ کا انعام ہے ۔ میرا ہاتھ جلا ، تکلیف ہوئی مگر یقین ہے کہ مجھ سے انجانے میں کوئی خطا ہوئی ہے ۔ اللہ نے ہاتھ جلا کر حساب برابر کر دیا "
بابا جی ایک تسلسل سے بول رہے تھے ۔
" یہ درد شام تک کم ہو جائے گا ۔ اگر میری خطائیں آخرت میں زیادہ ہوگئیں تو ؟ وہ آگ تو اس آگ سے کئی گنا سخت ہے ۔ یہ ہے میرے شکر کی وجہ "
بابا جی مسکرائے اور نوجوان کو تھپکی دیتے ہوئے بولے ۔
" بیٹا ! صرف ایک بار اپنے ہاتھ پر جلتی ہوئی تیلی لگا کے دیکھنا اور پھر دوزخ کی آگ کا تصور کرنا ۔ سب اکڑ بھول جاوگے ۔ شکر کرنے کی عادت خود بخود آ جائے گی "
بابا جی کے الفاظ سے میرے جسم میں کپکپاہٹ تھی ۔ میں نے بھی تو کبھی اسطرح سوچا ہی نہیں تھا ۔
آزاد ھاشمی
٢ جنوری ٢٠١٩
Thursday, 3 January 2019
زندگی کی جمع پونجی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment