Thursday, 27 December 2018

خوفزدہ قوم

" خوفزدہ قوم "
ہم اس امت سے وابستگی کے دعویدار لوگ ہیں ،  جس کے اسلاف بھوک ، افلاس اور وسائل کے مکمل انحطاط کے باوجود قیصر و کسریٰ کیلئے خوف کی علامت ہوا کرتے تھے ۔ جو دین کیلئے ہتھیاروں کا فکر کئے بغیر اللہ پر توکل کی طاقت سے کار زار میں اتر جاتے تھے ۔ ہم اس جذبے سے محروم ہوگئے ہیں ، جو فتح کی بنیاد بنتا ہے اور وہ ہے ایمان کا غیر متزلزل جذبہ ۔
آج آزاد خیالی کے لباس میں طاغوت کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے ۔ دین سے وابستگی کے دعویدار کونوں میں دبک گئے ہیں ۔ مذہب کے نام پر بھڑکیں مارنے والے خاموش ہو گئے ہیں ۔ جن کی سیاست کا نعرہ ہی دین کی سربلندی تھا ، وہ موضوع سے ہٹ کر مہنگائی وغیرہ کی رٹ لگانے لگ گئے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے راستے آزاد خیالی کیطرف موڑے جارہے ہیں ۔ اور ہم گبھرائے ہوئے اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ اللہ کسی مسیحا کو ضرور بھیجے گا جو اس طاغوتی یلغار کا راستہ روکے گا ۔ ہم ان چھوٹے چھوٹے خس و خاشاک کیطرح ہیں جوسیلاب کے پانی کی سطح پر تیرتے ہوئے سیلاب کی مرضی سے بہاو کیطرف بہہ جاتے ہیں ۔ سیلاب کا راستہ روکنے والے پتھر بننے کی جرات نہیں کرتے ۔
آزاد خیالی نے ہماری اقدار ، ہماری ثقافت ، ہماری تہذیب ، ہماری جرات اور ہماری سوچ تک چھین لی ہیں ۔ اب ہم ایک سہمی ہوئی ، ڈری ہوئی ، خوف سے مغلوب قوم ہیں ۔ اس ہزاروں بھیڑوں کے ریوڑ کیطرح ، جن سے درندے اپنی مرضی کی بھیڑ اٹھا لیتے ہیں اور دوسری بھیڑیں شکار ہونے والی کو سہمی نظروں سے دور تک دیکھتی رہتی ہیں ۔
اگر یہی حال رہا تو کیا کبھی ہم سر اٹھا کر چلنے کی امید رکھ سکتے ہیں ؟ شاید کبھی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment