Tuesday, 16 April 2019

واجب القتل

" واجب القتل "
ہمارے وطن میں بالعموم رحجان ہے کہ عام علمی سطح کا کوئی بھی شخص ، جو باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگے ، کچھ مولوی حضرات کی محفل میں بیٹھنے لگے ، اسکے مزاج میں تحمل اور بردباری کی بجائے متشدد رحجان جنم لینے لگتا ہے ۔ اسکے مزاج یا مسلک کے خلاف کوئی بھی حرکت ، انتہائی سزا کے لائق ہو جاتی ہے اور انتہائی سزا قتل ہے ۔  یعنی عام علمی سطح کا انسان ایسے قتل کو اپنا فرض سمجھنے لگتا ہے ۔  اسلام کی تعلیم تحمل اور برداشت کی تعلیم ہے ۔ ایسے کسی ایک قتل کے پیچھے اگر مذہبی تعصب ہے , تو یہ قتل انسانیت کا قتل ہے . جسے اسلام کی تعلیمات کے سراسر منافی مانا جاتا ہے . اور احکامات ربی میں ناجائز اور قابل تعزیر جرم ہے . ایسے قتل کی سزا , قانون ربی میں جہنم کا بد ترین درجہ ہے .
ایمان کا تقاضا ہے کہ  ہم اپنے عقائد کسی دوسرے پر لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں . اور اس حد تک نہ چلے جائیں کہ کسی دوسرے کی جان لے لیں . یہ نہ تو دین کی خدمت ہے اور نہ ایمان کا حصہ .
یہاں اس اصول کو بھی ذہن میں رکھنا لازم ہے , کہ کسی بھی  دوسرے دین کے ماننے والے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ شعار اسلامی کا , قران پاک کا یا نبی پاک کی توہین کا مرتکب ہو . کسی مسلمان کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرنا بھی جرم ہے اور ناقابل معافی جرم ہے . ایسا فعل فساد ہے اور فساد کی راہ روکنا , جہاد ہے . جہاد کی حدود کا تعین واضع ہے . اپنے دین کی حفاظت نہ صرف ضروری ہے بلکہ فرض ہے . اب جو سلسلہ لبرل نے شروع کر رکھا ہے , اسے تحریر و تقریر کی آزادی کہنا سراسر غلط ہے , یہ مذہبی تعصب ہے . یہ فساد کی راہ ہے اور اسے روکنا , لازم ہے . کوئی بھی مذہب , عقیدہ یا مسلک اسکی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی شخص  دوسرے کے مذہب یا عقیدہ کی  تضحیک کرے .
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو تحریم و تکریم ہم سب کے دلوں میں اپنے عقائد کی  ہوتی ہے , دوسرے عقیدے کے لوگ بھی ایسی کی تعظیم اپنے اپنے عقیدے کی کرتے ہیں ۔ وہ نہ تو کسی بحث سے ختم ہو سکتی ہے , نہ کسی دباو سے . اللہ نے اسکا جو حل دیا وہ
"تمہارے لئے تمہاری راہ , میرے لئے میری راہ" ہے تو پھر یہ فساد کی باتیں کیوں کی جائیں . ایک لبرل اپنے آپ کو اتنا آزاد نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ , اللہ کے رسول , قران اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگے . حکم ربی ہے کہ برائی کو ہاتھ سے روکو , یہ ایمان کا اعلی درجہ ہے , اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو , یہ ایمان کا کمزور پہلو ہے  , اگر زبان سے روکنے کی جرات نہیں , تو دل سے برا خیال کرو .
ایک شخص , جو مسلمانوں میں مذہبی اشتعال پھیلاتا ہے , اسے طاقت سے روکنا , ایمان کا اعلی درجہ ہے . بشرطیکہ وہ بار بار تنبیہہ سے باز نہ آئے ۔ 
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment