Friday, 12 April 2019

بنیادی حقوق کی محرومی

" بنیادی حقوق کی محرومی "
پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ سیاستدان شعور سے عاری ہیں ۔ انسانی ہمدردی نام کا شائبہ تک انکے دلوں میں موجود نہیں ۔ نمود و نمائش ، جھوٹی تسلیاں اور باہمی اختلافات سے سیاسی مفادات حاصل کرنا انکی سیاست کے اہم گر ہیں ۔ انکی نظر میں کچھ مخصوص علاقوں کو مراعات سے نواز دینا ، ترقی ہے ۔ یہ جانتے ہی نہیں کہ بنیادی حقوق اولیت رکھتے ہیں اور ہر بنیادی حق ہر شہری اور دیہاتی کا مساوی ہے ۔ شہروں کی جگمگاتی روشنیوں کا قطعی مطلب نہیں کہ پسماندہ علاقے اندھیروں میں ڈوبے رہیں ۔ شہروں اور چند مخصوص علاقوں کو جنت بنانے کے ارادے اور بہت سارے علاقوں سے بنیادی سہولتوں کے فقدان نے احساس محرومی کو جنم دیا ۔ کیسے ممکن ہے کہ جن کے سامنے لوگ ہر سامان آسائش سے مستفید ہو رہے ہوں اور وہ پینے کے پانی کیلئے میلوں سفر کریں ۔ تو ان لوگوں سے وطن کی محبت کیسے توقع کی جا سکتی ہے ۔ جسکا بچہ علاج سے محرومی کے باعث اسکے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر مرے گا ،اس سے حب الوطنی کا سوچنا بھی حماقت نہیں تو کیا ہے ۔ تھر کے لوگ ، کس کسمپرسی کے عالم  میں ہیں ، کیا حکمرانوں کو علم نہیں ۔ پنجاب کے کتنے علاقے اپنے حقوق سے محروم ہیں ، کیا لاہور کی تزئین و آرائش والوں کو علم نہیں ۔ بلوچستان کے لوگوں کی ضروریات زندگی کے فقدان سے کونسا سیاستدان اگاہ نہیں ، پختونخواہ میں کتنے لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں ، کون نہیں جانتا ۔ دنیا بھر سے جو ترقیاتی امداد ان علاقوں کیلئے ملتی ہے وہ ان پر خرچ کیوں نہیں ہوتی ۔ ہم شور مچاتے ہیں کہ بھارت ، امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل ہمارے اندر اختلافات پیدا کرتے ہیں ۔ ہمارے لوگوں کو بغاوت پر اکساتے ہیں ۔ کیا بنیادی حقوق کی محرومی اصل وجہ نہیں ۔ اگر ہر پاکستانی کو مساوی وسائل مل جائیں تو بغاوت کی چنگاری کبھی نہیں سلگے گی ۔ جو حق مانگتا ہیں ہمارے سیاستدان اسے غدار قرار دے دیتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم بنے گا تو پانی کا مسئلہ حل ہوگا ۔ ارے اگر کچھ لوگوں کے تحفظات ہیں ، اس سے فساد کی راہ نکلتی ہے تو چھوڑو ، دوسرے ڈیم بنا لو ۔ بہانے کیوں تلاش کرتے ہو ۔ سرائکی بولنے والے اپنے نام سے صوبہ چاہتے ہیں تو بنا دینے میں ملک اور قوم کا کیا نقصان ہے ۔ انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہو گا اتنا ہی انتظام و انصرام آسان ہو گا ۔ ضد کس بات کی ۔ میری نظر میں غدار نہ مہاجر ہیں ، نہ پٹھان ، نہ بلوچ ، نہ سندھی اور نہ ہی پنجابی غاصب ہیں ۔ غدار سیاستدان ہیں ، بیورو کریٹ ہیں ، جج ہیں ، حکمران ہیں اور ہر وہ ادارہ ہے جو اپنے فرائض کو چھوڑ کر اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں ۔ وسائل عوام مہیا کرتے ہیں ، ان وسائل کو عوام پر خرچ کیا جائے تو کبھی غداری نہیں ہوگی ۔ جب کسی علاقے کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جائے گا تو بین الاقوامی ادارے متحرک بھی ہونگے اور مداخلت کا امکان بھی پیدا ہو گا ۔ اسطرف خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے  کہ پاکستانی کو پہلے بنیادی حقوق مہیا کئے جائیں ، پھر شہروں کو دلہن بنایا جائے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment