Sunday, 14 January 2018

بیوی

" بیوی "
اللہ نے بیوی کو شوہر کی مونس و غمخوار بنا کر بھیجا ۔ آدم ؐ کی اداسی اور تنہائی کا بہترین علاج بیوی تھا ۔ یہی سلسلہ چل رہا ہے اور قیامت تک چلتا رہے گا ۔
انسانی معاشرے کی روش کو سیدھا رکھنے میں مرد کا راست باز ہونا لازم تھا اور اسکی بےلگامی کو روکنا بھی ضروری تھا ۔ اسکا واحد کارآمد ، زود اثر اور تیر بحدف علاج  بھی بیوی ہی تھا ۔ کتنا بھی بےلگام اور سرکش مرد کیوں نہ ہو ، بیوی سے اچھی لگام کوئی نہیں ہوتی ۔ اگر یقین نہ آئے تو بڑے سے بڑے طرم خان کو گھر میں دیکھیں ، یا بیوی کے ساتھ بازار میں گھومتے دیکھیں ۔ مجال ہے حسین سے حسین تر خاتون کی طرف سیدھی نظروں سے دیکھ لے ۔ ٹیڑھی ٹیڑھی نظر اور بہانے بہانے سے بھی دیکھنے کی جرات شاذ ہی ہوتی ہے ۔ اس  وقتی شریف کو اکیلے بازار میں دیکھیں تو مجال کوئی عورت ایکسرے کے بغیر گذر جائے ۔
اللہ کی حکمت دیکھیں کہ بڑے سے بڑے زور آور کے ناک کی نکیل بیوی بنا دی جو ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ احتساب برائی کے سدباب کا موثر ترین ہتھیار ہے ، بیوی سے بہتر محتسب آج تک دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا ۔ میں نے بڑے بڑے بہادروں کو بیوی کے سامنے کانپتے دیکھا ، اس شخص کی بہادری کو تو سلام ہے جو دو دو ، تین تین اور چار چار بیویوں کا سامنا کر لیتے ہیں ۔ ایسے بہادر مسلمانوں کے علاوہ کسی قوم میں نہیں ۔ جو لوگ شیر کی باچھیں پھاڑنے کے دعوے کرتے ہیں ، وہ گھر کی شیرنی سے پسینہ پسینہ ہوئے رہتے ہیں ۔ اللہ کی حکمت دیکھیں کیسا علاج کیا ابن آدم کا ، صرف ایک پڑیا سے ، جسکا نام " بیوی " رکھا
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment