Monday, 15 January 2018

کرکٹ مت کھیلو

" کرکٹ مت کھیلو "
عمران خان سے چند باتیں ۔
ستم رسیدہ قوم ،  ہر نئے آنے والے کو مسیحا سمجھ لیتی  ہے ۔ امیدیں لگا لی جاتی ہیں کہ اب کے حالات ضرور بدلیں گے ۔ قوم کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ کرکٹ کا یہ کھلاڑی  بد دیانت نہیں ، کھرا اور ستھرا انسان ہے ۔ وطن اور قوم کی محبت سے سرشار ہے کیونکہ کینسر جیسے مرض کیلئے ہسپتال بنا لینا ، پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی بنانا ، اپنی عائلی زندگی کو قوم کیلئے قربان کرنا ، کسی عام انسان کا کام نہیں ۔ یقینی کسی مسیحا کا ورود ہے ۔
یہ وہ ساری مثبت خوبیاں ہیں جو  آپ کو لیجنڈ بناتی ہیں ۔  وقت بہت ظالم ہے آہستہ آہستہ ان پردوں کو اٹھا دیتا ہے جو حقیقت کو چھپائے ہوتے ہیں ۔  اللہ کرے ایسا ہی ہو، جو لوگ سمجھے بیٹھے ہیں اور جو تصویر اپنے ذہنوں میں نقش کر چکے ہیں ۔
مگر اب  آپ کی شخصیت کے کچھ نقوش دھندلے ہونا شروع ہو رہے ہیں ۔ شادی کرنا برائی نہیں ، اگر اپنے مذہب کے قواعد و ضوابط کے مطابق کی جائے ۔ ازدواجی زندگی میں ٹوٹ پھوٹ بھی عیب نہیں ۔ کسی کو پسند کرنا اور شادی کی دعوت دینا بھی برائی نہیں ۔ مگر یاد رہے کہ شادی کی دعوت یا ترغیب کسے شادی شدہ عورت کو دینا ، نہ صرف معیوب ہے بلکہ بدترین فعل ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس سے بڑا دھوکہ قوم کے ساتھ کوئی نہیں ۔ پھر ہسپتال اور یونیورسٹی بھی کسی سازش کا پیش خیمہ ہے ۔ کیونکہ یہ فعل تمام خوبیوں پر پانی پھیر دے گا ۔
ایک سادہ لوح انسان کیسے مان لے ، کہ کوئی خاتون تصوف کے اس مقام پہ پہنچی ہوئی ہے ، جہاں اسکی بیعت کر لی جائے ۔ اسلام کی پوری تاریخ میں حضرت رابعہ بصری ، ایک ایسی خاتون گذری ہیں ، جو تصوف کے درجے پہ فائز تھیں اور انہوں نے کبھی کسی مرد کو ملنا پسند نہیں کیا ۔ آپ کو روحانی فیض ملا ہو گا ، پھر روحانی فیض سے جسمانی فیض کی رغبت سمجھ نہیں آرہی ۔ اور اس جسمانی فیض کیلئے طلاق یا خلع کی نوبت آ جانا ، خاتون کو ازدواجی تعلقات استوار کرنے کا سوچنا ، یقینی طور پر معاملات کو پیچیدہ بنا رہا ہے ۔
آپ مہربانی فرمائیں ، جو من میں آئے کریں ، مگر مذہب پر رحم کھائیں ۔ ہم تو پہلے ہی بیشمار الجھنیں پالنے والی قوم ہیں ۔ کرکٹ کھیلیں ، خوب کھیلیں مگر قوم سے نہیں ۔ اگر آپ وزیراعظم بنتے ہیں تو اسے بیوی  کی عطا نہ سمجھ لینا ، اللہ کی آزمائش سمجھنا ۔ کیونکہ اقتدار اللہ کا انعام نہیں اللہ کی آزمائش سمجھنے سے راستہ درست رہتا ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment