" عدل میں جھول ہے "
عدل جرم کی مطابقت سے ملنے والی سزا کا نام ہے ۔ اور عدل کی ترازو میں اسی اعتبار سے ہر بڑے چھوٹے مجرم کو تولا جاتا ہے ۔ عدل کی دوسری ضرورت معاشرے کی اصلاح ہے ۔ اور فیصلہ ہمیشہ سخت ہونا چاہئیے کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں ۔ نواز شریف کی سزا کیا ہے اور اسکا جرم کیا تھا ؟ ملک سے پیسہ چرانا اور بیرون ملک جائیداد بنانا ۔ یہ جرم تو بہت سارے دوسرے فوجی ، جج ، بیوروکریٹ ، سیاستدان ، جاگیردار اور کاروباری حضرات کر رہے ہیں ۔ کیا اس سزا کے متوازی عدل عمل انکے خلاف بھی جاری ہے یا نہیں ؟ نواز شریف کا دوسرا جرم اپنے عہدے کا ناجائز استعمال ہے ، تیسرا جرم وطن کو نقصان پہنچانا ہے اور ایک جرم کہ وہ ملکی دشمن سرگرم رہا ہے ۔ اگر یہ تمام جرائم درست ہیں تو پوری دنیا میں ایسے جرائم کی مروجہ سزا کیا ہے اور ہمارے وطن میں کیا ہونی چاہئیے ۔ پھر وہی سوال کہ انہی جیسے جرائم کرنے والے دوسرے بیشمار لوگوں کیخلاف کیا ایکشن لیا گیا ؟ جب عدالت کو معلوم تھا کہ مجرم سنگین مقدمات میں ملوث ہے تو از راہ ہمدردی اسے باہر کیوں جانے دیا گیا ، اگر جانے دیا گیا تھا تو اسکے واپس آنے کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا ۔ کیا ہمدردی ختم ہوگئی تھی یا اسے موقع فراہم کرنا تھا کہ وہ دس سال کی قید لندن کی جنت میں بیٹھ کر گذارے ؟ رہی انکی بیٹی کی سزا ، تو میری ناقص رائے میں ، یہ انتقام نظر آرہا ہے انصاف نہیں ۔ اگر عدل ہے تو کیپٹن صفدر بھی اسی کشتی پر سوار تھا جس پر مریم نواز ۔ پھر کیپٹن صفدر پہ مہربانی کیوں ؟
مجھے نواز شریف سے قطعی کوئی وابستگی نہیں ۔ مگر اس عدل میں اسوقت تک جھول ہے ، جب تک دوسرے مجرموں کو اسی طرح عدل کی چھلنی سے نہیں گذارا جاتا ۔
آزاد ھاشمی
٦ جولائی ٢٠١٨
Friday, 6 July 2018
عدل میں جھول ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment