" حب الوطنی کا پہلا تقاضا "
ہم نے جتنا ہو سکا موجودہ سیاست پر ، ملکی مسائل پہ ، معیشت پہ اور دیگر معاملات پر تجزئیے اور تبصرے شروع کر رکھے ہیں ۔ کسی ملک کو اسکے قدموں پر کھڑا کرنے کا جو کردار قوم ادا کرتی ہے وہ سیاستدان یا حکمران کبھی نہیں کر سکتے ۔ اسطرف ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی ۔ دنیا میں جو ملک آج ترقی یافتہ کہلاتا ہے ، اسکے عوام پر غور کیا جائے کہ وہ کتنے محب وطن ہیں اور ہم اپنے اوپر غور کریں کہ ہمارا کردار کیا ہے ، تو اصل اسباب سامنے آ جائیں گے ۔
ہم معاشی شکستگی کے باوجود ، اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمارے رہن سہن میں ہماری روزمرہ کی ضروریات میں غیر ملکی مصنوعات ہونا چاہئیں ۔ ہم اس سمجھوتے پہ راضی ہی نہیں ہوتے کہ چلیں کچھ کم معیاری ہی سہی ، اپنے ملک کی مصنوعات پر انحصار کر لیں ۔ اگر یہ سوچ بن جائے تو بغیر کسی مشکل کے ہماری صنعتیں ترقی کرنے لگیں گی ۔ صنعتکاروں میں مقابلہ بازی کا رحجان پیدا ہو گا اور قیمتیں از خود اعتدال پہ آجائیں گی ۔ بے روزگاری میں کمی ہو جائے گی ۔ زر ساقط گردش میں آجائے گا ۔
کہتے ہیں کہ جب ایک تاجر گھر سے نکلتا ہے تو سو دوسرے لوگوں کا رزق ساتھ لیکر نکلتا ہے ۔ ہم نے اس رحجان کی حوصلہ شکنی کی ۔ تاجر مایوسی کا شکار ہو کر اپنا سرمایہ ادھر ادھر لگانے لگ گئے ، صنعتیں سکڑنے لگیں ،درآمدات بڑھ گئیں ، زر مبادلہ آنے کی بجائے جانے لگا اور ہماری کرنسی زوال پذیر ہونے لگی ۔ ہم نے واویلا شروع کردیا کہ حکمرانوں نے ہمیں لوٹ لیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت تھی مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ ہم نے اس شاخ کو کاٹا جس پر ہم بیٹھے تھے ۔
کیا ممکن ہے کہ میں اور آپ یہ ثبوت دیں کہ ملکی مصنوعات پر کلی انحصار کریں گے ، درآمد شدہ سے گریز کیا جائیگا ۔ کیا ممکن ہے کہ ہم اپنے اپنے حلقہ احباب میں اگاہی کا جہاد شروع کریں گے کہ ملکی مصنوعات کو اپنایا جائے ؟ اگر نہیں تو جذبہ حب الوطنی کا پرچار کرنے کا مجھے اور آپ کو کوئی حق نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢ جولائی ٢٠١٨
Monday, 2 July 2018
حب الوطنی کا پہلا تقاضا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment