" اھدنا الصراط مستقیم "
ہم نے اللہ سے ہدایت کی دعا کی اور بار بار کرتے ہیں ۔ کہ ہمیں سیدھی راہ دکھادے ۔
کیا ہم نے کبھی غور بھی کیا کہ ہم کیا مانگتے ہیں ۔ عام فہم میں تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس راہ کی طلب کرتے ہیں جو جنت کیطرف جاتی ہے ۔ علماء نے اس بنیادی دعا اور طلب کی روح سے اگاہی کو لازم ہی نہیں سمجھا ۔
انسانی شعور کی ایک حد ہے ، جس کے اندر رہ کر وہ اپنی سمت کا تعین کر سکتا ہے ۔ کبھی یہ شعوری حد حالات و واقعات کے تحت فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو دیتی ہے کہ سیدھا راستہ کیا ہے اور غلط راستہ کیا ۔ ایسے میں وہی قادر مطلق ہے جو ہمیں سیدھی راہ کی راہنمائی کر سکتا ہے ۔ اللہ نے ہمارے تمام معاملات کی راہ کا واضع تعین قرآن سے اور اپنے جبیب کے اسوہ سے کر دیا ۔مگر ہم نے وہی انداز اختیار کر لیا ، جو یہود کا تھا ۔ اللہ کا متعین کردہ راستہ چھوڑ دیا ۔
کیا کوئی محقق ، مفکر ، ناقد ، فلاسفر یا عالم ثابت کر سکتا ہے کہ حکمرانی کے لئے جمہوریت وہ سیدھا راستہ ہے ، جس کی ہم دعا مانگتے رہتے ہیں ۔ یقیناً نہیں ۔
جب ہم دیکھتے ہوئے ، سمجھتے ہوئے بھی سیدھی راہ کو چھوڑے بیٹھے ہیں ، تو پھر کونسی صراط مستقیم ڈھونڈہ ریے ہیں ۔ یہ وہ مذاق ہے جو ہم اپنے ساتھ کرتے رہتے ہیں ۔ ہم نے جس سیدہی راہ کی دعا مانگی ، اللہ نے وہ راہ دکھا دی ۔ ہم نے وہ راہ چھوڑ کر دوسری اپنا لی ۔ اب کیا مانگ رہے ہیں ۔ اللہ کا نظام زندگی ، نظام معاشرت ، نظام معیشت ، نظام عدل ، نظام سلطنت ، صراط مستقیم ہے ۔ مگر ہم کس کو اپنائے بیٹھے ہیں ۔ کبھی سوچتے بھی نہیں اور کوئی بتاتا بھی نہیں ۔ یہ وہ سبب ہے جس نے ہمیں دنیا کے کونے کونے میں رسوائی بھی دی اور سزا بھی بھگت رہے ہیں ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Wednesday, 29 March 2017
اھدنا الصراط المستقیم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment