" ہم سب وطن دشمن ہیں "
ہر وہ شخص جو وطن کے موجودہ نظام سے ، خوف سے ، مفادات کے لئے ، سیاسی وابستگی پر ، مصلحت اندیشی سے یا کسی بھی وجہ سے سمجھوتہ کئے بیٹھا ہے ۔ وطن سے اور اپنی آنے والی نسلوں سے غداری کا مرتکب ہے ۔ جمہوریت کے پودے کو تناور درخت دیکھنے کا خواب پورا کرنے کی کوشش میں جو بھی شامل ہے ۔ وہ اللہ کے دین سے بر سر پیکار بھی ہے اور وطن میں برائی کی جڑیں مضبوط کرنے کا مرتکب بھی ۔ ہر وہ دانشور جس نے اس نظام سے دوستی کر لی ہے ، اس نے وطن کی مٹی سے دغا شروع کر رکھی ہے ۔
ہم سوچتے کیوں نہیں کہ جمہوریت کے نام پر چند کرپٹ لوگ ہمارے سروں پر مسلط ہو گئے ہیں ۔ اب انکی آنے والی نسلیں تیار ہو رہی ہیں ۔ احمق لوگ سیاسی کارکن بننے کو عبادت تصور کئے بیٹھے ہیں ۔ اپنے بچوں کو روشن مستقبل دینے کا فرض بھلا کر پیشہ ور سیاسی خاندانوں کے بچوں کو حکمرانی دے رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے وطن کو ایک سو چھبیس سیاسی گروہوں میں بانٹ دیا ، بیسیوں مذہبی فرقے بنا ڈالے ، علاقائی زبانوں سے تقسیم شروع کر دی ، گھر گھر میں الگ الگ سوچ کی دیواریں کھڑی کر دیں ۔ اور ہم نے آنکھوں پر انجانی پٹی باندھ لی ہے تاکہ حقیقت نظر نہ آ سکے ۔ ہر وہ شخص جو اپنی اولاد کو اسی سیاسی بھٹی میں جھونک رہا ہے ، جس میں خود جلتا رہا ۔ کیا وہ اپنی اولاد سے مخلص ہے ۔ جو اولاد سے مخلص نہیں وہ وطن سے مخلص کیسے ہو گا ۔ تمہارے پیچھے ہٹنے سے یہ سارے سیاسی قلعے مسمار ہو جائیں گے ۔ جتنی تگ و دو اس نظام کے لیے ، ان جمہوری پنڈتوں کیلئے کی جا رہی ہے اگر اسکا دس فیصد پورے خلوص ، پوری قوت اور لگن سے اللہ کے نظام کے لئے کر لی جاتی تو آج سارا نظام تبدیل ہو چکا ہوتا ۔ ہر بد کردار اپنےانجام کو پہنچ چکا ہوتا ۔ بھیک مانگنے والے ہاتھ خیرات بانٹ رہے ہوتے ۔
شکریه
ازاد ھاشمی
Wednesday, 29 March 2017
ہم سب وطن دشمن ہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment