عزیر بلوچ کی کہانی سن کے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ ہماری تمام اجنسیاں صرف کاغذی کاروائیوں کی ماہر ہیں - عملی طور پر نا اہل ہیں - اس ساری کہانی سے بہت سارے سوال جنم لیں گے -
وہ پولیس افسران , وہ سیاسی لیڈر , وہ مذہبی گروپ , وہ تمام لوگ جو دہشت گردوں کی پشت پناہی , مالی اور قانونی امداد , پناہ گاہوں کی فراہمی کرتے ہیں - کیا انکا جرم معاف ہو جاے گا , یا انھیں بھی پوچھا جاے گا کہ یہ وطن سے غداری کیوں کی - کیا انہیں ان جرائم میں ملوث ہونے کی وہی سزا ملے گی , جو غدار کی ہوتی ہے - کیا ایجنسیوں کے ذمہ داروں سے پوچھا جاے گا کہ تم لوگ ملک کے وسائل کو ہڑپ کر رہے ہو - اپنی ڈیوٹی کیوں نہیں کرتے -
کیا یہ تسلیم نہیں کر لینا چاہیے کہ دہشت کرنے والے ہمارے اداروں پر حاوی ہیں - کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ عزیر بلوچ کو آئ جی پولیس لگا دیا جاے -
ایف آئ اے کے وہ بہادر افسران کہاں ہیں جنہوں نے بول ٹی وی کے سربراہ کو امریکنوں کی ایماء پر کنگال کر دیا -
کیا ایسا کوئی جج ہے جو از خود ان تمام محرکات کا نوٹس لے گا -
سالہا سال سے جرم پلتا رہتا ہے اور کسی کو کان و کان خبر نہیں ہوتی - نہ
میڈیا بولتا ہے نہ دانشور-
کیا اسمبلیوں میں قانون بنانے والے اس ساری حماقتوں پر بھی بولیں گے -
ہمیں جو برائی عزیر بلوچ میں دکھائی جا رہی ہے - اس سے کہیں زیادہ برائی ان پولیس افسران میں تھی , ان سیاسی لیڈروں میں تھی , جنہوں نے اسے ہر سہولت دے رکھی تھی -
آزاد ہاشمی
Monday, 27 March 2017
عزیز بلوچ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment