" تیرا میرا رب "
سوشل میڈیا پر ایک اعلیٰ پولیس افسر اپنے مرشد کے سامنے دو زانو بیٹھا ، دعا کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ اسکا بیٹا کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں پابند سلاسل ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ ذاتی چپقلش سے یہ واقعہ ہوا ۔ کم طاقتور نے کسی زیادہ طاقتور سے پنگا لے لیا ۔ جس معاشرے سے انصاف ، قانون اور اسکے ساتھ ایمان اٹھ جائے ، وہاں ایسے واقعات عجیب نہیں لگتے ۔ معمول بن جاتا ہے ۔ میرے مشاہدے میں بہت سارے بے لگام افسران کی مثالیں ہیں ، جو وردی میں خدا بنے بیٹھے رہتے ہیں ۔ نہ کسی غریب کی غربت کا احساس ، نہ کسی کی عزت و آبرو کا لحاظ ، جسے چاہا سر بازار رسوا کر ڈالا ، جسے چاہا بے قصور مجرم بنا ڈالا ۔ یہ ایک روایت بن گئی کہ جو حفاظت دینے والے تھے ، وہ خوف کے نشان بن گئے ۔ بعض نے نیک نامی کا تمغہ سجانے کی خاطر ہر ناجائز کو جائیز کر ڈالا ۔
اب یہ تو ضروری نہیں کہ مزکورہ افسر بھی اسی مزاج کا ہو ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ معاشرے کو اور اسکے پیٹی بھائیوں کو ایک مثال مل گئی ۔ جسے بطور سبق یاد رکھنا ہو گا ۔ کہ آخری فیصلہ کرنے والا تیرا بھی رب ہے تو میرا بھی رب ہے ۔ کتنا اچھا ہوتا ، مدد کے لئے رب کو پکارا ہوتا ۔ اللہ کے سامنے گڑگڑانے کا گر سیکھا ہوتا ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment