" ترقی یا تنزلی "
ضرورت کے عین مطابق وسائل کی فراہمی لازمی ہوتی ہے ، اس سے کسی کو انکار نہیں ۔ سڑکیں بھی ضرورت ہیں تا کہ آمدورفت میں آسانی ہو اور معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومتا رہے ۔ مگر سڑکوں کا لش پش ہونا اسوقت درست ہے جب وسائل موجود ہوں ۔ قرضہ لیکر لش پش کا رحجان ترقی نہیں تنزلی ہے ۔ چین نے سائیکل پر سفر کر کے ترقی کی ہے ۔ پہلے وسائل اور ذرائع کو اہمیت دی ہے بعد میں کسی اضافی پروجیکٹ پر قدم رکھا ۔ ہمارے ہاں قرضوں پر انحصار کرکے اسے ترقی کہا جا رہا ہے ۔ مقروض کی کوئی بھی ترقی قابل ستائش نہیں ہوتی ۔ ایک وقت ایسا آیا کرتا ہے کہ قرض خواہ سر چھپانے والی چھت بھی چھین لیا کرتے ہیں ۔ اصل ترقی شعور ہوتی ہے ۔ جاپان جب تباہ ہو گیا تو قوم با شعور تھی ، گھروں میں کھلونے بنانے بیٹھ گئی ۔ پوری دنیا میں ہاتھ پھیلانے اور در در سے رو رو کر بھیک مانگنے کی طرف رحجان نہیں کیا ۔ قوم کا شعور اثاثہ ہوتا ہے ۔ اس پر کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی ۔ انسان کی ضرورتیں اسکی زندگی تک رہتی ہیں اور زندگی کی سب سے پہلی ضرورت خوراک ، پھر لباس اور اس سے زیادہ اہم صحت ہے ۔ ہم ان تینوں میں ماضی کی نسبت زوال کیطرف بڑھ رہے ہیں ۔ زرعی ملک ، جسکی ساٹھ فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے ، جب اشیائے خورد و نوش درآمد کرے گا ، تو اسے کوئی جاہل ہی ترقی کہہ سکتا ہے ، با شعور کوئی بھی شخص اسے تنزلی ہی کہے گا ، بھلے سڑکیں شیشے کی بنا ڈالو ۔ ہم نے تعلیم کے ساتھ جو مذاق کیا ، وہ نہایت بھونڈا مذاق ہے ۔ تعلیم کی درجہ بندی کر دی ۔ امراء کے بچوں کی تعلیم کا معیار الگ اور غرباء کے بچوں کی تعلیم کا معیار الگ ۔ امراء کا شوق سیاسیات کی تعلیم ، جو ترقی کیطرف نہیں جاتا ، صرف ذاتیات تک رہتا ہے ۔ کتنے امیر زادے ہیں جو بیرون ملک ٹیکنالوجی سیکھتے ہیں ۔ بیرسٹر بنتے ہیں ، بزنس ایڈمنسٹریشن سیکھتے ہیں یا سیاست پڑھتے ہیں ۔ غریب کا ذہین بچہ تعلیم کے وسائل نہ ہونے کے باعث مکینک بن جاتا ہے ۔ اسے اگر وسائل ملتے تو ٹیکنالوجی سیکھتا ۔ جہاز بناتا ، جدید مشینیں بناتا ۔ زراعت سیکھتا ، زمین سے سونا پیدا کرتا ۔
ہماری ضرورت تھی کہ زراعت پر توجہ دیتے ، مگر کسان اسقدر دل برداشتہ کر دیا گیا کہ اس نے کھڑی فصلیں جلانا شروع کر دیں ۔ اسے ترقی کہیں گے یا تنزلی ۔
علاج معالجہ کی حالت یہ ہے کہ ہماری خواتین ، سڑکوں اور رکشاوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں ۔
پانی ابتدائی ضرورت ہے ، ہم تھر میں پانی دینے کے اہل نہیں ہوئے ، اور اب شہروں میں بھی گدلا پانی پی رہے ہیں ۔
ایک رواج بن گیا ، کہ جس کی جیب میں پیسے ہیں ، یا جسے علاج معالجے کی سہولیات حکومت کے ذمے ہیں ، انہیں کھانسی بھی ہوتی ہے تو یورپ کا رخ کرتے ہیں ۔ جو جیب سے خرچ کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ انکے ذاتی پیسے ہیں ، جبکہ یہ ملک کا سرمایہ ہے جسے ملک میں استعمال ہونا چاہئیے ۔
ہم نے جسے ترقی کہا ، وہ اپنے وسائل سے نہیں ہوا ، بھاری سود کی شرائط پر حاصل کیا ، اگر کل قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکار کرتے ہیں تو ہماری معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا ۔( اللہ ایسا نہ کرے ) یہ حکمران پہلے ہی ملک سے باہر اثاثے بنا چکے ہیں ، انکے گھر بھی ہیں اور اولاد بھی وہاں کی شہریت کی حامل ہے ۔ یہ سب بھاگ جائیں گے ۔
قوم کو تعجب نہیں ہونا چاہئیے کہ ہمارے اکثر ریٹائرڈ جنرل ، کرنل اور انکی اولادیں بھی ملک سے باہر خوشحال زندگی کے مزے لے رہے ہیں ۔ یہی حال بہت سارے بیوروکریٹس کا ہے ۔
ہمیں جو زعم ہے کہ ہم نے بڑے بڑے منصوبے بنا لئے ، ان میں اکثر صرف تعیش ہے ، ضرورت نہیں ۔ قوم خود فیصلہ کرے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔
آزاد ہاشمی
٢٠ اپریل ٢٠١٨
Saturday, 21 April 2018
ترقی یا تنزلی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment