" دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ ٣"
ہم اپنے خالق حقیقی سے اقرار کرتے ہوئے مزید کچھ دعوے کرتے ہیں ۔
"وَنُثْنِیْ اِلَیْکَ الْخَیْر وَنَشْکُرُکَ ولا نَکْفُرُکَ"
(اور تیری ثناء کرتے ہیں ۔اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے)
ہر نماز کے آغاز میں ، اللہ سبحانہ تعالی کی ثناء کی جاتی ہے ۔
" اے ہمارے رب ، تیری ذات پاک ہے ، تیرے لئے ہیں سب تعریفیں ، تیرا نام بہت برکت والا ہے ، تیری ذات بہت بلند و بالا ہے ، تیری سوا کوئی الہ نہیں ، کوئی معبود نہیں "
ہم مانتے ہیں ، کہ جس مقام پر اللہ کی پاک ذات ہے اس پر کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہی ایمان ہے ، یہی عبدیت ہے اور یہی نماز ہے ۔ دعائے قنوت میں بھی یہی دہرایا گیا کہ ہم تیری "ثناء" کرتے ہیں ۔ صرف ثناء تک محدود نہیں رہ جاتے بلکہ تو نے جس حال میں رکھا ، جو دیا اور جو نہیں دیا ، سب پر شکر کرتے ہیں ۔ اور کفر نہیں کرتے ۔ اللہ کی کسی بھی صفت سے انکار یا شک کرنا کفر ہے ۔ اللہ نے جو احکامات دئیے انہیں جانتے ہوئے نہ ماننا کفر ہے ۔ اللہ جس سے نفرت کرے اس سے نفرت نہ کرنا کفر ہے ۔ اللہ جس سے محبت کرے اس سے محبت نہ کرنا کفر ہے ۔ یعنی اللہ کے کسی بھی حکم کی نفی کرنا کفر ہے ۔
ہم شکر اور کفر کے معاملے میں دعوی تو کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت میں دیکھیں تو ان دونوں معاملات میں بہت کمزور ہیں ۔ محض اسلئے کہ جو کہہ رہے ہوتے ہیں سمجھتے نہیں ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اپریل ٢٠١٨
Sunday, 22 April 2018
دعائے قنوت 3
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment