" حسینیت کے ماننے والوں سے "
بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ دو چار باتیں ، ان سے بھی ہو جائیں ۔ جن کا اوڑھنا بچھونا " حب اہل بیت " ہے ۔ جن کی نظر میں صرف آل رسولؐ کی محبت ہی انسان کی فلاح ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا انعام ہے کہ انہوں نے وہ رہبر چن رکھے ہیں ، جن کا مقام بلندی کے اعلی درجے پر ہے ۔
کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا کہ جن کی رہبری کا دم بھرتے ہو انکا کردار کیا تھا ۔ باطل کے سامنے جھکنا ، باطل کی اعانت کرنا ، باطل سے خوفزدہ ہونا ، اللہ کے کسی حکم سے ذرہ برابر لغزش کرنا ، انکے کیلئے ممکن ہی نہیں تھا ۔ کربلا گواہ ہے کہ ایک کردار سے عاری شخص کے سامنے خاموش بیٹھ کر اپنی جان بچانے سے بہتر سمجھا کہ سر اور بازو کٹا دئیے جائیں ۔
آپ کہتے ہو کہ یہی آپ کی منزل ہے ۔ کیا آپ بد کردار کو ووٹ دے کر اسکی بدکرداری کو دوام نہیں بخشتے ہو ؟ جس شخص کا عمل حکم ربی کے مطابق ہی نہیں ، اسکو ووٹ دینا ، حسینیت کی ضد نہیں ؟ یزید نے شہداء کربلا کے سردار سے ووٹ ہی مانگا تھا ۔ جو سید الشہداء نے اسلئے نہیں دیا کہ یزید کا کردار اسلام کے خلاف تھا ۔
کیا یہ سارا انتخابی ڈھونگ رچانے والے اس معیار پہ پورے اترتے ہیں کہ جو معیار ایک حکمران کا اسلام نے مقرر کر رکھا ہے ؟
یزید اقتدار کا بھوکا تھا ، ہر حال میں اقتدار چاہتا تھا ، کیا یہ خصلت ان سیاسی رہنماوں میں نہیں ؟
یزید کھیل تماشے کا شوقین تھا ، کیا یہ لیڈر کھیل تماشوں سے بڑھ کر شوق نہیں رکھتے ؟
یزید نے اسلام کے طریقے سے بغاوت کا مزاج اپنا رکھا تھا ، کیا یہ جمہوریت اسلام سے کھلی بغاوت نہیں ؟
روز محشر کیا جواب دو گے ۔
ذہن پہ زور دے کر دیکھو تو حسینیت کی محبت کا بھرم نہیں رکھ پاو گے ۔
حسینیت سے محبت ہے تو حسینؑ کے نقش قدم پر چلنے کو اولیت دو ۔ کسی بھی یزید خصلت کی تقلید مت کرو ۔
اپنا احتساب کرو ، ہو سکتا فلاح کی راہ نزدیک بھی ہو جائے اور اصلاح بھی ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اپریل ٢٠١٨
Thursday, 26 April 2018
حسینیت کے ماننے والوں سے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment