Monday, 23 April 2018

دعائے قنوت 5

دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ ٥  "
اللہ سبحانہ تعالی سے دعائے قنوت میں وعدوں کا جو تسلسل نظر آتا ہے ،
اس پر من و عن عمل کی ایک ہی صورت ہے کہ اسے سمجھا جائے ۔ مذہبی فریضہ ہے کہ اس دعا کو ابلاغ کیا جائے ۔ ہم کہتے ہیں
"اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ ۔"
( اے الله ! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔ اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں ۔
اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں ۔
اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں )
نماز کی روح یہی ہے کہ خالص اللہ کیلئے پڑھی جائے ، دکھاوا اور تجارت نہ ہو ۔ سجدہ ، نماز میں یوں اہم ہے کہ بندگی کے اظہار میں اپنی ذات ، اپنی انا اور اپنی حیثیت کی نفی کردی جائے ۔ جب یہ کیفیت آ جاتی ہے تو خشیت کا طاری ہو جانا لازم ہوتا ہے ۔ اللہ کے سامنے سعی کر کے پہنچنا اور ذہن میں یہ بٹھا لینا کہ ہم اللہ کے سامنے حاضر ہو رہے ہیں ۔ یہ وہ حالت ہے جس کا ہم اقرار کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ اپریل ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment