" دعائے قنوت ، اللہ سے وعدہ ٦ "
ہم نے بہت سارے عہد کر لئے ۔ اور اب وہ مدعا بیان کرتے ہیں ۔
" وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ "
( اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں ۔ اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے)
اللہ کی رحمت کی امید ، اللہ کی ذات پر مکمل بھروسے کی غماض ہے ۔ اسکی رحمت سے مایوس ہو جانا ، کفر ہے ۔ مایوسی اسوقت ہوتی ہے جب یہ سوچ لیا جائے کہ یا تو دعا قبولیت نہیں پا سکی ، یا اللہ نے سنی نہیں یا اللہ پوری نہیں کرے گا ۔ گو ہماری دعائیں اثر نہیں رکھتیں اور ہم اس معیار پر پورے ہی نہیں اترتے ، جہاں دعا قبولیت پاتی ہے ۔ ہم اپنی اکثر دعاوں کے معنے اور مفہوم سمجھے بغیر دہراتے رہتے ہیں ۔ مانگنے کے طریقے سے اگاہی اسی صورت میں آتی ہے ، جب سوال کا مفہوم سمجھ آ جائے ۔ اب ہم اللہ کی رحمت کا سوال کرتے ہیں اور اس خوف کا اظہار کرتے ہیں ۔ جو غضب اللہ نافرمانوں پہ کرے گا ۔ جس مہلک عذاب سے کفار گزریں گے ، اس سے بریت مانگتے ہیں ۔
دعائے قنوت ہر رات سونے سے پہلے کی نماز کا واجب حصہ ہے ۔ کون جانے صبح ہو گی یا نہیں ۔ اگر انہماک سے پڑھ لی جائے تو یقینی طور نجات کا سبب بن جائیگی ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ اپریل ٢٠١٨
Tuesday, 24 April 2018
دعائے قنوت 6
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment