" ایک تھا صحافی "
یہ بہت پرانی کہانی ہے ، جب لوگ سچ سننے کے عادی تھے ۔ جب سچ بولنے والوں کو معتبر سمجھا جاتا تھا ۔ جب قلم کی کاٹ تلوار سے زیادہ سخت ہوا کرتی تھی ۔ جب الفاظ کا تقدس ہوا کرتا تھا ۔ جب کوئی لکھنے والا لکھتا تھا تو سوئی ہوئی قوم جاگ اٹھتی تھی ۔ جب ظالم حکمران ایک ایک لفظ کا حساب لیتے تھے ، صحافی پھر بھی سچ لکھتا تھا ۔ جب لکھنے والوں کے الفاظ انگریز بہادر کی ٹانگیں کپکپا دیتے تھے ۔ شاید کسی پرانی کتاب میں ان لکھاریوں کے نام آج بھی زندہ ہوں ، جن کو توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا مگر انہوں نے اپنے قلم نہیں بیچے ۔ اندھیرے عقوبت خانے ان سے سچائی لکھنے کی عادت نہیں چھڑا سکے ۔
یہ کہانی ختم ہوئی ۔
اب ہمارے بعد میں آنے والی نسلیں کہانی یوں شروع کیا کریں گی ۔
ایک تھا صحافی ، نہیں نہیں بہت سارے تھے صحافی ۔ مکھیوں کیطرح ہر بدبو دار چیز پہ بہت سارے صحافی بیٹھے ہوتے تھے ۔ جھوٹ لکھنے میں انکا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ جو لفافہ دیتا تھا اسکے لئے لکھتے بھی تھے اور بھونکتے بھی تھے ۔ قلم انکی ذہنی غلاظت کا غلام تھا ۔ انہوں نے قوم کی حریت کو ایسا ٹیکہ لگایا کہ ساری قوم نے بہن بیٹیوں کی عزت پر آوازے کسنے کو سیاست سمجھ لیا ۔ لوگ بھول گئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ۔ یہ سب ان صحافیوں کی قلمکاری تھی ۔ یہ وہ کوٹھے والی عورت تھے جو ایک ہی وقت میں کئی تماش بینوں کی گود میں بیٹھتی ہے ۔ انکے پیٹ بھرے ہوتے تھے مگر آنکھیں ہمیشہ بھوکی ہوتی تھیں ۔ یہ وہ ننگ قوم تھے جو وطن دشمن کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے ۔ یہ سفید لباسوں میں لپٹے کالے کرتوت تھے ۔
پھر یہ کہانی سننے والے ، ان پر تھو تھو کیا کریں گے ۔ انکے وارث ان سے تعلق ظاہر کرنے پر شرم محسوس کیا کریں گے ۔ یہ اولاد ہوتے ہوئے بھی لاوارث ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ اکتوبر ٢٠١٨
Friday, 26 October 2018
ایک تھا صحافی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment