" من شر ما خلق "
سورہ فلق میں اللہ سبحانہ تعالیٰ ، اپنے بندوں کو ، ان بندوں کو جو اسکی وحدانیت پر ایمان لائے ، جو اسکے احکامات کو مانتے ہیں ، ہدایت فرمائی کہ
" کہو ! پناہ مانگتا ہوں ، صبح کے رب کی "
کس سے ؟
" من شر ما خلق "
ہر اس شر سے ، جو پیدا ہوتا ہے اور جو پیدا کیا جاتا ہے ۔ تراجم میں اس نکتے پر بہت کم توجہ دی گئی ہے ۔ باور ہونا چاہئیے کہ اللہ رحیم و کریم کی پاک اور بلند ذات کو شایان ہی نہیں کہ وہ کوئی شر تخلیق فرمائے ۔ شر کو تخلیق کرنا ، شیطنت ہے اور شیطان چاہتا ہے کہ اسکے بندوں کیلئے خرابی کی راہ تیار کرے ۔ خرابی پیدا کرنے میں دوسرا عنصر انسان خود ہے ۔ انسان اپنے لئے یا دوسرے انسانوں کیلئے شر خود تخلیق کرتا ہے ۔ شر اللہ کیطرف سے پیدا نہیں کیا جاتا ۔
اللہ نے ہدایت فرمائی کہ تم اپنے رب سے پناہ مانگو کہ جب کوئی خرابی ، کوئی فساد ، کوئی شر تیار کر لیا جائے تو اس سے اللہ ہم کو اپنی پناہ میں لے لے ، بیشتر اسکے کہ ہم اسکا شکار ہو جائیں ۔
اگر ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیں تو دنیا میں جتنا بھی شر نظر آتا ہے ، جو بھی فتنہ سر اٹھاتا ہے ، جو بھی خرابی پروان چڑھتی ہے ، تمام کی تمام انسان کی تخلیق کردہ ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اسکی پناہ میں چلے جائیں ۔ نا کہ اس شر کا شکار ہو جائیں ۔ اللہ کی یہ محبت اسکی رحمت کے سبب ہے ، اسکی کے حبیبؐ کی امت کے ہونے کے سبب ہمارے لئے مخصوص ہے ۔ مگر ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی ۔
آزاد ھاشمی
٢١ اکتوبر ٢٠١٨
Sunday, 21 October 2018
من شر ما خلق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment