" اصل محرک کون "
ہمارا قومی المیہ عدل کا فقدان ہے ۔ جس معاشرے سے عدل و انصاف اٹھ جائے اس معاشرے کی موت قریب ہو جایا کرتی ہے ۔ طاقتور بے لگام ہو جاتے ہیں ، کمزور ظلم سہنے کے عادی اور با شعور لوگ بزدل ہو جاتے ہیں ۔ ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ اس برائی کا اصل محرک کون ۔
عدالتیں ، پولیس ، بیورو کریسی یا حکمران ۔
اگر معمولی فکر سے سوچا جائے تو اصل محرک عوام نام کی مخلوق ہے ، جو اس حد تک بے حس ہو گئی ہے کہ ہرظلم ، نا انصافی اور زیادتی کو برداشت کر لیتی ہے ۔ اس کبوتر کی طرح جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ پائے گی ۔ یا ہرنوں کے اس غول کی طرح جو اپنے ساتھی کو نوچتے ہوئے درندوں کو دور کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔
پولیس کے راشی اور بد دیانت اہلکار اور افسران ، عدل فروش اور بزدل جج ، ماہر قانون دان اور سیاست کے طاقتور رہنما ، یہ سمجھ کر جبر و زیادتی کا ساتھ دیتے ہیں ، کہ انہیں طاقت کا کمال ہمیشہ رہے گا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جنگل میں بھی بڑے سے بڑا درندہ ایک روز جنگلی کتوں کی خوراک بن جایا کرتا ہے ۔ اگر قانون کی بالا دستی رہے تونسلیں محفوظ ہو جایا کرتی ہیں ۔ ورنہ ایک روز داروغہ شہر بھی بگڑے نظام کے ہاتھوں مارا جاتا ہے ۔
ہم نے اس حقیقت کو کئی بار دیکھا مگر کبھی سبق نہیں سیکھا ۔
اگر یہ کہا جائے کہ مبہم قانون ، اختیارات کا من مانا اطلاق بھی بہت بڑا سبب ہے ۔ تو غلط نہ ہو گا ۔
صرف اور صرف ایک راستہ جو ان سب کمزوریوں کا مکمل حل ہے ، وہ اسلام کا بے لچک قانون ہے ۔ ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء چاہئے تو اسے ہی اختیار کرنا ہو گا ۔ شکریہ
آزاد ھاشمی
20 اکتوبر 2016
Saturday, 20 October 2018
اصل محرک کون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment