Tuesday, 16 October 2018

میرا نبیؐ اور سائنس

" میرا نبیؐ  اور سائنس "
کائنات کا وجود کب سے ہے اور کب تک رہے گا ۔ حقیقت صرف اللہ کی ذات جانتی ہے ۔ سائنس کے اعداد و شمار میں زمین کی تخلیق کا عرصہ لاکھوں سال پر محیط ہے ۔ انسان کی تخلیق پر بھی سائنسی اندازے بیشمار ہیں ۔ سائنس کا وجود نظریات پر بتدریج تبدیلی کا شکار رہتا ہے ، اسلئیے سائنس کے اعداد و شمار پر یقین بھی ممکن نہیں ۔ ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے جو بھی ملا ،  اسے نہ تاریخ جھٹلا پائی اور نہ سائنس ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس نے قرآن اور ہادئ کائنات کے بتائے گئے حقائق کی تائید کی ۔  یہ آپؐ کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے کہ
ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ تاریخ کی ترتیب و تدوین بھی مفقود تھی ۔  اسوقت کی ترقی یافتہ اقوام بھی ضروری علوم سے بخوبی اگاہی نہیں رکھتی تھیں ۔  یہی سبب تھا کہ کسی بھی نبی کی تعلیم مستند حالت میں موجود نہیں رہی ۔  ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ،  لہو لعب میں غرق معاشرہ ،  جسے دنگا فساد اور شراب و مستی کے سوا کوئی دوسری بات مرغوب ہی نہیں تھی ۔ وہاں وسائل  کی انحطاط سے نبرد آزما ، ایک یتیم ہدایت کی روشنی پھیلائے ، ﺍور وہ کہے جو سائنس آج کہہ رہی ہے ۔
" ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ۵ ‏)
ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میں کہے  ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔
ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ‏( Barrier ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ٢٠ ‏)
جہاں ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور وہ کہے " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ۴٠ ‏)
ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے " ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ٣٨
ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ‏( ﭼﮭﺖ ‏) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ " ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ، ﺁﯾﺖ ۴٧ ‏)
سائنس آج بھی نظام کائنات میں کسی ایسے نقص کی تلاش میں ہے ، جس
میں تغیر و تبدل کی ضرورت ہو اور انسان اسے بہتر کر سکے ۔  ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ  عظیم ہستی ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎدﯾﺎ " ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ۔ ‏( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺁﯾﺖ ٣ ‏)
ان سائنسی رازوں پر تفصیل ممکن نہ ہونے کے باعث ، یہ راز ہیں جو ہمارے نبیؐ کی عظمت کو کائنات کے ہر ذی روح سے منفرد اور اعلیٰ مقام دیتے ہیں ۔ یہ وہ علوم ہیں جو قرآن کو " لا ریب " کتاب کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٤ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment