Friday, 19 October 2018

رب العٰلمین، رحمت العٰلمین

" رب العٰلمین ، رحمت العٰلمین "
تمام جہانوں کا رب ، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی صفت اور شان میں جو بات کہی گئی ہے وہ " ربوبیت " ہے ۔ رب کیلئے جو اصطلاح یا ترجمہ استعمال کیا جاتا ہے ، وہ ہے پالنے والا یا پھر پیدا کرنے والا ۔ یہ ترجمہ ربوبیت کے مفہوم کا ایک رخ تو کہا جا سکتا ہے مگر واضع ترجمہ نہیں ہے  ۔ کیونکہ جب عالمین کی بات ہوتی ہے تو پوری کائنات کو اسکے محور پر قائم رکھنا ، اسکو چلانا اور اسے مکمل و منظم رکھنا ، اصل ضرورت ہے ۔ یہ سارا نظام برقرار رکھنے والے کے لئے " رب " کی صفت بولی گئی ہے ۔ یہ کائنات کتنی وسیع ہے ، کب سے ہے اور کب تک رہے گی ، اس کے وجود سے پہلے اور اسکے وجود کے اختتام کے بعد ، اس کائنات میں کتنی مخلوق ہے ، کتنی گذر گئی اور کتنی گزر جائیگی ۔ کتنی تبدیلیاں آئیں اور کتنی آئیں گی ۔ یہ سب شمار سے باہر ہے ۔ اس سب کا " رب " اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے ۔ کیونکہ وہی اسے قائم رکھے ہوئے ہے ۔ عالمین کی وسعت سے اللہ کی ربوبیت کو الفاظ کے احاطے میں لانا ، انسانی شعور سے بہت بعید ہے ۔
یہی عالمین کا لفظ ، اللہ کے حبیبؐ کیلئے " رحمتہ العٰلمین " کی صورت میں پکارا جاتا ہے ۔ گویا جب نظام کائنات کی ترتیب و تکمیل ہوئی ، اسی وقت سے " رحمت " کا آغاز ہوا ۔ اللہ کی عطا اور محبت کا اندازہ کیسے لگایا جائے کہ جہاں جہاں پر اللہ کی ربوبیت ہے ، جب سے ہے اور جب تک رہے گی ، جس جس مخلوق پر اور جس جس پر رہے گی ، کائنات سے پہلے بھی تھی اور کائنات کے بعد میں بھی رہے گی اس سب پر " رحمت العٰلمین " کی رحمت بھی شامل ہے ، شامل تھی اور شامل رہے گی ۔
شعور کو جتنا بھی وسعت پر لے جایا جائے ، جیسے اللہ کی ربوبیت کا احاطہ نہیں ویسے ہی اللہ کے حبیبؐ کی رحمت کا احاطہ ممکن نہیں ۔
اللہ نے اپنی محکم و بلیغ کتاب میں آپؐ  کو مخاطب فرمایا کہ
" آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا "
اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ آپ کا وجود ، اس بشری تخلیق سے پہلے موجود تھا ۔ کب سے تھا ؟ رحمتہ العٰلمین ہونے سے واضع ہوتا ہے کہ جب سے " ربوبیت " ہے تب سے " رحمت " ہے ۔
اس مقام کا ادراک ممکن ہی نہیں ،  جہاں آپؐ فائز ہیں اور ہم بشریت کے تقاضوں پر سوچ میں پڑے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٨ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment