Tuesday, 16 October 2018

معاویہ کے بعد کیا ہوا (4)

" معاویہ کے بعد کیا ہوا( ٤ )"
یہ واضع تاریخی حقائق ہیں کہ یزید نے کربلا میں بھی بیس سے چالیس ہزار کا لشکر سو کے قریب افراد پر مشتمل قافلہ حسینؑ کے مقابلے میں بھیجا ۔ بلاوجہ جنگی حالات پیدا کر دینا یزید کے خاص ہنر تھے ۔ یہی کام یزید نے مدینہ پر لشکر کشی کیلئے کیا ۔ اسوقت مدینہ میں باقاعدہ نہ کوئی فوج مرتب تھی اور نہ کوئی قیادت ایسی تھی جو یزید کے خلاف صف آراء ہو جاتی ۔
مسلم بن عقبہ، یزید کے حکم پر بارہ ہزار آدمیوں کے لے کر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔
اس لشکر کو ملنے والے احکامات میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ جنگ میں کامیابی کی صورت میں تین روز تک قتل عام جاری رکھنا اور مال و اسباب لوٹنا۔
مدینہ پہنچنے پر اہل مدینہ یزید کی اطاعت قبول کرنے کا کہا گیا جو اہل مدینہ کو قبول نہیں تھا ۔ 
عبدالرحمٰن بن عوف اور عبد اللہ بن نوفل سمیت کئی اکابرین شہید ہوئے۔ مسلم نے فتح حاصل کرنے کے بعد یزید کے حکم کے مطابق قتل و غارت گری کی اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس واقعے میں 306 شرفائے قریش و انصار اور دیگر قبائل کے آدمی کام آئے۔ تین دن کے بعد باقی ماندہ لوگوں سے بیعت کرنے پر اصرار کیا گیا۔ ان سے جبراً بیعت لی گئی اور انکار کی صورت میں قتل کر دیا جاتا۔
آزاد ھاشمی
١٦ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment