Sunday, 14 October 2018

معاویہ کے بعد کیا ہوا (3)

معاویہ کے بعد کیا ہوا( ٣ )"
یزید کو اس سے کوئی واسطہ نہیں تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خونریزی کے اسلام پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ مطلق العنان بادشاہ بننے پر عمل پیرا تھا . امام حسینؑ کی شہادت کے بعد وہ یقین کر چکا تھا کہ اب اسکے راستے کی رکاوٹیں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں ۔ بنو امیہ کی سلطنت میں جتنی وسعت ممکن ہے ، کر لینی چاہئے ۔ اس نے ارادے کی تکمیل کیلئے  مدینہ پر  چڑھائی کر دی ۔ بہت سارے مکاتب فکر کے لوگ اس پر قائل ہیں کہ یہ سارے مظالم یزید کی اپنی صوابدید تھے ، معاویہ کو مورد الزام ٹھہرانا درست انداز فکر نہیں ہے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ پر جس شامی فوج نے چڑھائی کی وہ معاویہ ہی کی ترتیب دی گئی سپاہ تھی ، جو یزید کو وراثت میں ملی تھی اور یہ سارے احداف معاویہ نے مرنے سے پہلے یزید کو باور کرا دئیے تھے ۔ یزید تو عنان حکومت سنبھال لینے کے بعد گدھوں اور بندروں سے کھیلتا تھا ۔ وہ تو اسی راہ پر چلتا رہا جو وصیت میں دکھائی گئی ۔
یزید نے اس  افسوسناک واقعہ  ، جو 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔ اس لشکر کشی کی بنیاد صرف یہ خدشہ تھی کہ کہیں اہل مدینہ اور مکہ یزید کے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائیں ۔ کیونکہ مدینہ میں بہت سارے صحابہ کی اولاد موجود تھی اور یزید کی بیعت کو اسلام کے مطابق نہیں سمجھتے تھے ۔ یہ واضع تھا کہ یزید کی خلافت اسلامی اصولوں کے متضاد ہے اور یہ جبر کی حکومت ہے ۔ مدینہ اور مکہ کے لوگ معاویہ کی اس ہٹ دھرمی سے نالاں تھے کہ اس نے اپنے کردار باختہ بیٹے کو خلیفہ بنا کر اسلام  کے نظام سے انحراف کیا ہے ۔ یہاں بھی یزید اور بنو امیہ کے مورخ لکھتے ہیں کہ اس صورتحال میں یزید سلطنت اسلامیہ میں کشت و خون نہیں چاہتا تھا اور اہل مدینہ کو سمجھانے کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا چاہتا تھا ، مگر اہل مدینہ کی ہٹ دھرمی اور  اموی خاندان کے افراد کو مدینہ سے نکال دینے کی بنا پر یزید کو مدینہ پر فوج کشی کرنا پڑی ۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یزید ایسے حالات از خود پیدا کیا کرتا تھا ، جس سے اسے لشکر کشی کا جواز مل سکے ، کیونکہ اسکے پاس مربوط فوج اور جنگجو تھے ، جب کہ اہل مدینہ کے پاس ایسے نہ تو وسائل تھے اور نہ ارادے ۔
---جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٥ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment