" کیا یہ فساد ہے؟ "
تعجب ہوتا ہے جب کوئی ایسا تاریخی حوالہ لکھا جائے ، جو آل رسولؐ کے حق میں دلیل پیش کرتا ہو ، تو کچھ محقق درس دینے لگتے ہیں ۔ کہ اس قسم کی تحریریں فساد پھیلاتی ہیں ۔ عوام میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور لکھنے والے دین میں پھوٹ ڈالتے ہیں ۔
آخر آل رسولؐ پر جو مظالم ہوئے ، ان کو عوام کی آگاہی کیلئے بیان کرنا ، فساد کیسے ہو جاتا ہے ؟ حقائق کیا تھے ، انکو عام کرنا تو اصلاح ہوتی ہے تاکہ فرسودہ تاریخی حوالوں کا پردہ چاک ہو ۔ اسلام کی تاریخ کو اسی خاموشی نے مشکوک بنا دیا ۔ بنو امیہ جو چاہتے لکھواتے رہے اور حق بولنے والوں کو قید و بند میں رکھ کر انکی آواز کو دباتے رہے ۔ زہر دے کر مارتے رہے ۔ جو علم کے وارث تھے ، انہیں عقوبت خانوں میں ڈال دیا اور متوازن امامت کی ترویج کر ڈالی ۔ کیا اس کا اظہار کرنا فساد کہلائے گا یا وہ فساد تھا جس نے اسلام کو مسالک کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ آج یہ ہی فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ کونسی بات رسولؐ نے کہی اور کون سی حدیث رسولؐ سے منسوب کر دی گئی ۔ یہ ہے فساد کہ ۔رسولؐ نے کہا ہی نہیں اسے بھی حدیث کا درجہ دے دیا گیا ۔ اسکی بنیاد کس عرصے میں رکھی گئی ، بتانے پر فساد کا الزام موزوں ہے؟
قرآن صاف حکم دیتا ہے کہ ناحق قتل کرنے والا ایسا جہنمی ہے ، جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس پر سے عذاب کم نہیں ہوگا ۔ ہم نے بہتر بیگناہوں کو قتل کرنے والے کو جنتی ثابت کر ڈالا ہے اور دلیل میں اسی رسولؐ کی احادیث کو ثبوت بنا ڈالا ، جس رسولؐ کی اولاد ظلم کا شکار ہوئی ۔
مسلمانوں کی ایک سلطنت کو دو حصوں میں کس نے تقسیم کیا ؟ کیا یہ عمل فساد نہیں تھا ۔ اس کی بنیاد کا ذمہ دار کون ہوا ۔ اگر بتایا جائے تو فساد اور اگر خاموش رہا جائے تو ایک روز باطل سر چڑھ کر بولے گا ۔ حق یہی ہے کہ وہ جانا جائے ، جو درست ہے ۔ جو سچ ہے اور اس کو فساد کہہ کر چشم پوشی مزید ابہام پیدا کر رہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اکتوبر ٢٠١٨
Thursday, 18 October 2018
کیا یہ فساد ہے؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment