جب کوئی مانگنے والا ہمارے سامنے سوال کرتا ہے - تو ہم یہ فیصلہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ وہ خیرات کا مستحق ہے کہ نہیں -
الله ہر بات پر قادر ہے , اگر وہ چاہے تو اس مانگنے والے کی ہر ضرورت پوری کر دے - اگر وہ چاہے تو اسے دینے والا ہاتھ بنا دے اور ہمیں مانگنے والا کر دے -
یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں دینے والے ہاتھ کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے - کیونکہ الله ہمیں دیتے وقت ہماری ظاہری اور باطنی کیفیت کو نہیں دیکھتا - ہمارے اعمال اور قابلیت پر نظر نہیں کرتا - ہمارے کردار اور انکساری کو پیمانہ نہیں بناتا , بس ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں اور وہ دیتا ہے -
اکثر مانگنے سے پہلے دے دیتا ہے - الله کا یہ احسان کسی پہ بے پناہ ہوتا ہے , کسی کو ضرورت کی حد تک , کسی کو تنگی کے ساتھ - سب کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے - وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کتنے شکر گزار ہیں - کیا ہمارا تعلق الله سے ہے یا اپنی غرض سے - ہم الله کی پرستش کرتے ہیں یا اپنی ذات کی - ہمیں الله کی رضا عزیز ہے یا اپنی خوشحالی -
الله کی آزمائش اہل ثروت پر اس وقت سخت سے سخت ہوتی جاتی ہے جب وہ دولت کے حصول کے لئے پورے جتن کرنے میں لگ جاتے ہیں , پھر الله دیے جاتا ہے اور رسوائی انکا مقدر کر دیتا ہے - وہی دولت جسے عزت خیال کیا جاتا ہے لوگوں کی نفرت بن جاتی ہے , اور دولت کی پرستش کرنے والے ایک تعفن شدہ جسم بن کر رہ جاتے ہیں - الله کی نفرت عوام کی آواز بن جاتی ہے -
اور وہ جو اپنی جمع پونجی انسانوں کی فلاح پہ لگا دیتے ہیں , الله عزت و توقیر بخش دیتا ہے - یہی ہے وہ سوچ جسے اپنا لینا اس جہاں میں سکون اگلے جہاں میں بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
الله ہر بات پر قادر ہے , اگر وہ چاہے تو اس مانگنے والے کی ہر ضرورت پوری کر دے - اگر وہ چاہے تو اسے دینے والا ہاتھ بنا دے اور ہمیں مانگنے والا کر دے -
یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں دینے والے ہاتھ کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے - کیونکہ الله ہمیں دیتے وقت ہماری ظاہری اور باطنی کیفیت کو نہیں دیکھتا - ہمارے اعمال اور قابلیت پر نظر نہیں کرتا - ہمارے کردار اور انکساری کو پیمانہ نہیں بناتا , بس ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں اور وہ دیتا ہے -
اکثر مانگنے سے پہلے دے دیتا ہے - الله کا یہ احسان کسی پہ بے پناہ ہوتا ہے , کسی کو ضرورت کی حد تک , کسی کو تنگی کے ساتھ - سب کی آزمائش ہو رہی ہوتی ہے - وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم کتنے شکر گزار ہیں - کیا ہمارا تعلق الله سے ہے یا اپنی غرض سے - ہم الله کی پرستش کرتے ہیں یا اپنی ذات کی - ہمیں الله کی رضا عزیز ہے یا اپنی خوشحالی -
الله کی آزمائش اہل ثروت پر اس وقت سخت سے سخت ہوتی جاتی ہے جب وہ دولت کے حصول کے لئے پورے جتن کرنے میں لگ جاتے ہیں , پھر الله دیے جاتا ہے اور رسوائی انکا مقدر کر دیتا ہے - وہی دولت جسے عزت خیال کیا جاتا ہے لوگوں کی نفرت بن جاتی ہے , اور دولت کی پرستش کرنے والے ایک تعفن شدہ جسم بن کر رہ جاتے ہیں - الله کی نفرت عوام کی آواز بن جاتی ہے -
اور وہ جو اپنی جمع پونجی انسانوں کی فلاح پہ لگا دیتے ہیں , الله عزت و توقیر بخش دیتا ہے - یہی ہے وہ سوچ جسے اپنا لینا اس جہاں میں سکون اگلے جہاں میں بھی -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment