" سیٹ ایڈجیسٹمینٹ "
مبارک ہو قوم کو ۔ اسلام کی داعی کچھ جماعتوں نے اگلے انتخاب کا نہایت دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ مل کر الیکشن نہیں لڑیں گی , مل کر سیٹیں بانٹیں گی ۔
پہلا قابل تعریف کام تو یہ ہے کہ جمہوریت کو زندہ رکھا جائے گا ۔ اگر جمہوریت کو کچھ ہو گیا تو اہل کتاب بھائی , یہودی اور عیسائی ناراض ہو جائیں گے کہ ہم نے اپنی راہ اسلام کے نظام کی طرف کیوں موڑ لی ۔
یہ سیٹیں بانٹنا ، نورا کشتی کی ہی ایک شکل ہے ۔ یہ کام ہر ناکام سیاسی گروہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ۔ اور جو زیادہ شاطر ہوتے ہیں وہ حکومت سازی پر باریاں باندھ لیتے ہیں ۔ جیسے پاکستان ، امریکہ ، برطانیہ ، بھارت غرضیکہ ہر جمہوری ملک میں دو دو پارٹیوں نے باری باری اقتدار کے مزے لینے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے ۔
سوال سیدھا سا ہے کہ اگر منشور الگ الگ ہیں تو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیسے ، اگر منشور ایک ہے تو پھر الگ الگ پارٹی کا کیا جواز ہے ۔
یہ سارا مذاق قوم کے ساتھ ہے ۔ اور قوم کو کبھی سمجھ ہی نہیں آیا کہ عوام کی خدمت کے لئے کرسی کیوں ضروری ہے ۔ خدمت کے لئے تو جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ، جیسے عبدالستار ایدھی ، جیسے ڈاکٹر ادیب رضوی اور ایسے بے شمار نام ۔
خدا را عوام کے خلوص سے مت کھیلو ۔ اللہ کے احکامات پر اپنی راہ کا انتخاب کرو ۔ عمل سے دکھاو کہ آپ عملی طور پر کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہو اور وہ ارادہ حکم ربی کا نفاذ ہے ۔ اللہ کی تائید کا یقین کر کے دیکھو ۔ یہ خجل خواری بھی نہیں رہے گی ۔
اللہ نے یہ بے دین ، گمراہ ، بد دیانت اور بد کردار حکمران ، ہم پر کیوں مسلط کر دئے ۔ اس میں آپ دینداروں کا کتنا حصہ ہے ۔ کبھی سوچو تو سہی ۔ عوام سے زیادہ قصور وار آپ ہو ۔ مذہب کے نام پر سیاست چمکانے والے ۔
ازاد ھاشمی
Tuesday, 9 May 2017
سیٹ ایڈجیسٹمنٹ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment