جنگ کا شوق "
اسلام امن کا درس دینے والا مذہب اور ہمارے پیارے ہادی و
رہنما صل اللہ علیہ وسلم پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ۔ آپ
کی زندگی کا لمحہ لمحہ انسانیت کی بہتری اور فلاح کی کوشش سے معمور ہے ۔
غزوات اور سرائیہ کسی جنگی خواہش یا کفار کو مغلوب کرنے کی غرض سے نہیں ،
فساد اور فتنہ روکنے کی ضرورت کے تحت کرنا پڑے ۔
جہاد یلغار کا نام نہیں بھلائی پھیلانے اور برائی روکنے کی کوشش کا نام ہے ۔
ہم مسلمانوں کے بارے میں ایک رائے قائم کر لی گئی یے کہ ہم
جنگجو قوم ہیں اور ہمارا دین ہمیں لڑائی کا درس دیتا ہے ۔ اس تاثر کو تقویت
اسوقت ملتی ہے جب ہم عقل و شعور کا دامن چھوڑ کر جذبات سے مغلوب ہو جاتے
ہیں ۔ ہر شخص آمادہ پیکار نظر آنے لگتا ہے ۔ اسے ہم نے جذبہ ایمانی کا نام
دے رکھا ہے ۔ حقائق سے چشم پوشی کے ساتھ کئے جانے والے فیصلے نہ ایمانی
جذبہ ہے نہ قومی ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہم سفارتی اعتبار سے نا اہل ہیں ، ہمارے
رہنما منڈی میں بکنے والی جنس بن چکے ہیں ۔ جب ہر طرف سے ناکامی گلا دبوچ
لیتی ہے تو ہمیں جھگڑنے کی راہ آسان لگتی ہے ۔ ایک قوم جو معاشی پسماندگی
کا شکار ہے ، جس کے اپنے گھر میں خلفشار ہے ، جسکے ارباب اقتدار خود غرض
اور بد دیانت ہیں ، جسکی کھوکھ غداروں سے بھری پڑی ہے ، جسکے سفارتکار آرام
طلب اور نا اہل ہیں ۔ جنگ کے اہل نہیں ہو سکتی ۔ جنگوں کے اثرات عوام کو
بھگتنے پڑتے ہیں جرنیلوں کو مراعات ملتی ہی رہتی ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہمارا دشمن ہر میدان میں متحرک ہے ، ثقافتی ،
سفارتی ، سماجی ، تجارتی اور معاشی میدان میں ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔
اگر ہم کو جنگ کا اتنا ہی شوق ہے تو توپ و تفنگ کے علاوہ یہ سارے میدان
باقی ہیں ۔ یہی جذبہ ان میدانوں میں کیوں نہ آزمایا جائے ۔
یاد رکھیں ، جنگیں تباہی لے کر آیا کرتی ہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment