اک شرط پہ سناوں گا حال دل
سنو گے تو مسکرا دو گے
زمانے کی طرح
نہ برسے گا آنکھ سے بادل
نہ دل میں چبھن لو گے
نہ سوچو گے میری الجھنیں
نہ پوچھو گے اداسیوں کے سبب
رونے کو من چاہا تو
فقط گنگنا دوگے
زمانے کی طرح
بڑے اہتمام سے سجا رکھا ہے
ارمانوں کی قبر کو میں نے
روز امیدوں کے پھول چڑھاتا ہوں
روزمہکاتا ہوں ماضی کی یادیں
روز سر گوشیاں کرتا ہوں تنہائی سے
تم بھی آو گے کچھ خواب لے کر
ڈال کر میرے دامن میں
پھر سے مجھے بہلا دو گے
زمانے کی طرح
اب کے رسم زندگی بدل لی ہے
اک نیا جینے کا ڈھنگ سیکھا ہے
دل کی نہیں سنتا ہوں
سوچنا چھوڑ رکھا ہے
وفاوں کو تلاش نہیں کرتا
پھولوں سے من نہیں بھاتا
کچھ کانٹے تم بھی لا کر
میری سیج پہ بچھا دوگے
زمانے کی طرح
آزاد ھاشمی
6 دسمبر 2016
Friday, 8 June 2018
حال دل
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment