Friday, 8 June 2018

حال دل

اک شرط پہ سناوں گا حال دل
سنو گے تو مسکرا دو گے
زمانے کی طرح
نہ برسے گا آنکھ سے بادل
نہ دل میں چبھن لو گے
نہ سوچو گے میری الجھنیں
نہ پوچھو گے اداسیوں کے سبب
رونے کو من چاہا تو
فقط گنگنا دوگے
زمانے کی طرح
بڑے اہتمام سے سجا رکھا ہے
  ارمانوں کی قبر کو میں نے
روز امیدوں کے پھول چڑھاتا ہوں 
روزمہکاتا ہوں ماضی کی یادیں
روز سر گوشیاں کرتا ہوں تنہائی سے
تم بھی آو گے کچھ خواب  لے  کر 
ڈال کر میرے دامن میں
پھر سے مجھے بہلا دو گے
زمانے کی طرح
اب کے رسم زندگی بدل لی ہے
اک نیا جینے کا ڈھنگ سیکھا ہے
دل کی نہیں سنتا ہوں
سوچنا چھوڑ رکھا ہے
وفاوں کو تلاش نہیں کرتا
پھولوں سے من نہیں بھاتا 
کچھ کانٹے تم  بھی لا کر 
میری سیج پہ بچھا  دوگے
زمانے کی طرح
آزاد ھاشمی
6 دسمبر 2016

No comments:

Post a Comment