Friday, 8 June 2018

ایک نئی کہانی

" ایک نئی کہانی "
کچھ مسلمان مدبرین نے ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانا شروع کر دیا ھے کہ حرمین شریفین کو تمام مسلم امہ کے کنٹرول میں دے دینا چاہئے ، کسی ایک ملک کی اجارہ داری نہیں ھونی چاہئے  ۔ اس تحریک کے پیچھے بھی مسالک کی رسہ کشی دکھائی دے رھی ہے ۔ یہ وہ خواب ھے جو اہل کفر ایک طویل عرصے سے دیکھ رہے ہیں اور اسکی تعبیر بھی مسلمانوں کے ھاتھوں کروانا چاہتے ہیں ۔ اسوقت جس امر کی اشد ضرورت ھے وہ بین المسلمین اتحاد کی ضرورت ہے ، ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کا حل تلاش کرے اور اس پر عمل درآمد کروائے  ۔ کسی بھی خطے میں مسلمانوں کی داد رسی کو پہنچ کر کفر کے ظلم کو روکے ۔ ایسی مرکزیت کی طرف توجہ دینے سے بہت سارے معاشی ، سماجی اور سیاسی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے ۔ اگر ھم حقائق سے چشم پوشی نہ کریں تو حرمین شریفین کے کنٹرول کا ابھرتا ھوا تصور در اصل سعودی عرب کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش ھے جس سے ایک اور فساد شروع ہو جائے گا۔ وہ کونسے رھنما ھیں جو حرمین شریفین کے انتظامات کو بہتر چلانے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ سب کے سب تو مسالک کی کشمکش میں پھنسے ھوئے ھیں ۔
اگر ھمارے مدبرین اسلام سے محبت کے اظہار میں رائے زنی کر رھے ھیں تو زیادہ بہتر ھو گا کہ امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کی تحریک کریں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
27 ستمبر 2016

No comments:

Post a Comment