Saturday, 9 June 2018

کافر اور ترقی

آج ٹی وی پہ ایک زیرک دانشور کو سنا - حضرت فرما رہے تھے کہ آج جو بھی ترقی ہے وہ کافروں کی مرھون منت ہے - یہ لوٹے لے کر   چلے  کاٹنے  والے  کونسا تیر مار رہے ہیں - جن کے پاس طاقت ہے انہیں راج کرنے کا بھی حق ہے -
مان لیا کہ حضرت کی ایک  ایک بات ٹھیک تھی - حضرت کا مشاہدہ , علمی معلومات , دنیاوی مسائل پر عبور اور پھر انداز گفتگو میں سب  کو زیر کر لینا ان کی قابلیت کی دلیل ہے -
حضرت کچھ حقائق بھول گئے کہ جن کافروں کو ہم کامیاب سمجھ رہے ہیں , جن کی طاقت سے ہم گبھرا رہے ہیں - جن کی تقلید کا درس دیا جا رہا ہے - وہ سب کسی ایک نظام , ایک دین اور ایک عقیدے پر پختگی سے قائم ہیں - انکے دانشور , عالم  اور عوام  اپنے عقائد پر سختی سے قائم ہیں - یہودی ہوں , عیسائی
ہوں,  بدھ  مت  ہوں  یا  ہندو-  سب  کا  ایک ہی مشن ہے اور  وہ  اسلام  کا خاتمہ- یہی پختگی  انکی کامیابی  کی ضمانت ہے - اور
اسکے  لئے  وہ  سب  مسلسل  کوشش  میں  لگے  ہیں-
مسلمانوں  کو انہی دانشوروں نے , اپنے لیڈروں نے , اپنے مذہبی گروہوں نے  ہر روز ایک نئی بحث  میں  الجھا رکھا ہے - کسی نے سمجھ ہی نہیں آنے دی کہ خالی ہاتھ مسلمانوں سے قیصر و کسریٰ کیوں گبھراتے تھے - پوری دنیا کی فتوحات میں کونسا گولہ بارود مسلمانوں کے پاس تھا جو کفار کے پاس نہیں تھا -
کیا اسکے پیچھے جذبہ ایمانی اور تائید الله علاوہ کچھ تھا - وہ جذبہ کیا تھا -
رہی آج کی تکنیکی ترقی , تو یہ تجارت ہے -  شائد آپ  کو  یاد نہیں  کہ ہمارے لوگ اپنی  علمیت سے  اپنے آپ کو منوا چکے  ہیں - مسلمانوں اپنے جھگڑوں سے فرصت مل جاے اور یہ دانشور انکو اس راہ کی طرف توجہ دلائیں تو مسلمانوں میں نہ قابلیت کی کمی ہے , نہ کاہل ہیں - یہ ترقی کرنے کے لئے کفر کا رستہ اپنانے کی ضرورت نہیں - ارکان اسلام کسی ترقی , کسی تحقیق , کسی قابلیت کی راہ نہیں روکتے - پھر لوٹا پکڑ کے , دین کے لئے نکلنا اتنا معیوب کیوں بنایا جا رہا ہے -
یہی کافر چاہتے اور یہی آپ کہہ رہے ہیں -
کیا سمجھا جاے - آپ اسلام سے زیادہ کفر سے متاثر ہیں -
آپ کے سارے علم نے قوم کی , وطن کی , دین کی آنے والی نسلوں کی کیا خدمت کی - آپ کے تو ہاتھ بھی خالی , جھولی بھی اور آگے کے رخت سفر کے لئے بھی آپ کے پاس کچھ نہیں -
الله ہدایت دے -
آزاد ہاشمی
6 فروری 2016

No comments:

Post a Comment