Saturday, 9 June 2018

تذبذب کیوں

" تذبذب کیوں "
اسلامی کیلنڈر میں شائد کوئی مہینہ ہو جو اسلامی تاریخ کے اعتبار سے اہم نہیں ۔ محرم الحرام سے بہت سارے اہم واقعات کا تعلق ہے ۔ کربلا کے واقعہ سے پہلے اس ماہ کی تاریخی اہمیت کیا تھی ۔ اور مسلمانوں میں اس مہینے میں کون کونسے ایام کو منایا جاتا رہا ۔ کیا رکاوٹ تھی کہ اپنی تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے اہتمام کیا جاتا ۔ کربلا کے بعد جب آل رسول کی محبت میں اس ماہ کو ایک مخصوص اہمیت حاصل ہو گئی ۔ اور روز بروز یہ لگن بڑھتی چلی گئی ۔ تو کچھ اسلام کے مبلغین کو ایک ایک واقعہ یاد آنے لگ گیا ۔ تاریخ کی گم گشتہ کہانیاں از بر ہونے لگیں ۔
اپنی تاریخ کو یاد رکھنا اور دہراتے رہنا قابل ستائش بات ہے ۔ اس سے کسی کو نہ اعتراض ہے اور نہ ہونا چاھئے ۔ جس کا جس سے تعلق ہے وہ اپنے تعلق  کھل کر منائے ۔ کون روکتا ہے ۔ جن کے دلوں میں کربلا کے شہدا اور اسیروں کا درد یے ، ان کو ایام غم منانے دیں ۔ جن کو یزید کی حب بے چین کرتی ہے ، تذبذب میں کیوں ہیں ، یوم یزید  منائیں . جو حب علی سے سرشار ہیں انکو منانے دیں ۔ جن کو معاویہ کی محبت ہے معاویہ کی شان کے قصیدے گائیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ آل رسول کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔  چھوڑ کر نہ نماز ہو گی نہ عبادت ۔ اگر یزید کو رہبر مانو گے تو حسین ع کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ درمیان کا راستہ منافقت بنتا ہے ۔ تذبذب کیوں ہے ۔ گھٹے گھٹے لفظوں میں یزیدیت کی حمایت سے حسینیت کی مخالفت کا عنصر نہیں چھپتا ۔ ایک راہ اختیار کرو  ۔ خوف کیوں ۔
تذبذب کیوں ۔
شکریه
آزاد ھاشمی
3 اکتوبر 2016

No comments:

Post a Comment