" تالیاں بجانے والی قوم "
وہ قومیں کبھی مسائل کے دلدل سے نہیں نکلا کرتیں , جو احتساب سے نا واقف ہوتی ہیں - جو اپنے مستقبل کی فکر چھوڑ دیتی ہیں - جو گردنیں ظلم کے سامنے جھک جائیں , ایک روز تن سے جدا کر دی جاتی ہیں-ّ ہمارا مذھب ہر برائی کو روکنے اور ہر اچھائی کا ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے - مگر ہم نے دین کا رستہ ہی چھوڑ دیا - چوروں کے ہاتھ کاٹنے کو ظلم کہہ دیا اور وہی چور رہزن بن کر ہمیں ہی نہیں ہمارے وطن کی مٹی کو لوٹنے لگے - وہ مٹی جس کی حفاظت ہمارا فرض بھی ہے اور لوٹنے والے کو روکنا جہاد بھی - مگر ہم وہ قوم ہیں جو نہ فرض سے آگاہ ہیں , نہ حقوق سے - ہم نے دو لفظ کی گردان سیکھ لی -
ہر آنے والا " زندہ باد "
ہر جانے والا " مردہ باد "
اور ایک کام سیکھ لیا -
تالیاں بجانا - چور ہو یا قومی لٹیرا , زانی ہو یا شرابی , غنڈہ ہو یا بد معاش - کچھ بھی ہو اگر ہمارا لیڈر ہے تو ہم تالیاں بجاتے ہیں - بھلے وہ دوسروں کی پگڑی اچھالے , بد گوئی کرے , جھوٹ بولے - سر عام نا زیبا حرکات کرے -
ہم تالیاں بجائیں گے -
ایسی قوم کا آنے والا کل بھیانک نہیں ہو گا تو کیا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
8 جولائی 2016
Saturday, 9 June 2018
تالیاں بجانے والی قوم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment