Friday, 8 June 2018

کربلا کے نوکیلے پتھر

" کربلا کے نوکیلے پتھر "
اللہ کی محبت کا بھی کیا رنگ ہے ۔ جسے جتنا چاہتا ہے اسے اتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیتا ہے ۔ وقت کا ہر فرعون ، ہر شداد ، ہر نمرود اور ہر یزید آسائش کے لمحے لمحے سے مستفید ہوتا ہے ۔ اللہ کے پیارے کبھی آگ میں ڈالے گئے ، کبھی صلیب پہ لٹکائے گئے ، کبھی سالہا سال محصور کر دئے گئے ، کبھی سر کا خون نعلین تک پہنچ کر خشک ہوا ۔ کبھی زہر سے جان لی گئی کبھی تیغ سے ۔ امتحان جتنے بھی ہوئے سرخروئی اللہ کے پیاروں کو ہی ملی ۔ اور ذلت و رسوائی وقت کے متکبر اور زور والوں کا نصیب بنی ۔
ایسا ایک امتحان کربلا پہ بھی ہوا ۔ نوکیلے پتھروں کی یہ زمیں معصوم اور کومل پاوں کو چھلنی کرتی رہی ۔ تپتی ریت آبلہ پا مسافروں کو جھلستی رہی ۔ کسی ایک کا امتحان نہیں ، پورے قافلے کا کڑا امتحان ۔ چھ ماہ کے معصوم کا بھی امتحان ،  سکینہ کے ننگے پاوں کا امتحان  ، پردہ داروں کا امتحان ، ساتھیوں کی جانثاری کا امتحان ،  بیمار قافلہ کا امتحان ۔ سالار قافلہ کی برداشت کا سخت  کڑا امتحان ۔
آگ کی طرح برستی دھوپ ، کانٹوں کی طرح چبھنے والے پتھر ، بہتے ہوئے فرات پہ ایک ایک بوند کو ترستے حلق ۔ سالار قافلہ کے صبر کی انتہا کہ جری سے جری ساتھی کو اجازت نہیں کہ پانی پر حق جتانے کو بڑھے ۔ اپنی  ذات کیلئے کوئی طلب نہیں ۔
سب اللہ کی رضا پر راضی ۔ 
شکریہ
آزاد ھاشمی
29 ستمبر 2016

No comments:

Post a Comment