Monday, 10 December 2018

خسارے کا بجٹ اور ترقی کی امید

" خسارے کا بجٹ اور ترقی کی امید "
ہم جیسی بھولی بھالی قوم شاید ہی دنیا میں ہوگی ۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ ہر سال بجٹ میں ہم یہی سنتے ہیں کہ اس سال خسارے کا بجٹ ہو گا ، اور پھر بجٹ میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بجٹ میں ترقیاتی فنڈ رکھے گئے ہیں ۔ خسارے کا بجٹ اور ترقیاتی فنڈ وہ لولی پاپ ہے جو قوم کو ایک ساتھ دے کر ٹیکس لگا دئیے جاتے ہیں ۔ شاید کوئی معیشت کا ماہر سمجھا سکے کہ ہم بجلی استعمال کرتے ہیں ، بجلی کی پیداوار پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بجلی کی قیمت وصول کی جاتی ہے ۔ پھر اس بل پر ٹیکس کا کیا جواز ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔
کیا کوئی بتائے گا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے جب ٹیکس لگا لئے جاتے ہیں تو پھر قرضے کیوں لئے جاتے ہیں ۔
کیا کوئی جواز ہے کہ جو ملک قرضوں پر چل رہا ہو ، ٹیکس پر بھی ٹیکس دے رہا ہو اس ملک میں وزیر کو دس پندرہ لاکھ کی مراعات کیوں دی جاتی ہیں ۔ اسمبلی میں آنے والے تو خدمت خلق کے جذبے سے انتخابات لڑتے ہیں اور سارے کے سارے خوشحال در خوشحال ہوتے ہیں ۔ پھر انکو مراعات میں اربوں روپیہ ہر سال کیوں اڑا دیا جاتا ہے ؟ کیا دستور میں ہر گریڈ کے افسر کی مراعات کا کلیہ طے نہیں ۔ کیا اکیس گریڈ کا استاد بھی اتنی ہی مراعات لیتا ہے جتنی ایک جسٹس اور جنرل کو ملتی ہیں ؟
جب خسارہ ہے تو وہ اخراجات کیوں کم نہیں کئے جاتے ، جو غیر پیداواری ہیں ؟
جو وزارتیں ، شعبے اور ادارے " شو بازی " کے سوا کچھ نہیں کرتے ، انکو ختم کر دینے میں کیا دشواری ہے ؟
یہ سرکاری سانڈ پالنے کیلئے مہنگائی کا " جن " اور ٹیکسوں کے " بھوت " کھول کر خسارہ کیسے پورا ہو گا ؟
خدا را ادھر توجہ کی جائے کہ بجٹ میں خسارے کی وجوہات کو ختم کیا جائے ۔ قرضہ از خود خسارے کی وجہ ہے کیونکہ ہم جو قرضہ لیتے ہیں ، اس پر سود اور پھر اس قرضے کو غیر پیداواری عیاشیوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment