" اکثریت کیا چاہتی ہے ؟ "
جمہوریت ، اکثریت کا نام ہے ، جو اکثریت چاہے گی ، وہی قانون ہے ، وہی روایت ہے اور وہی اصول ہے ۔ اگر ہم اکثریت ہی کے فیصلوں کو ماننے لگیں تو اکثریت ووٹ ہی نہیں دیتی ۔ ایک تہائی کے لگ بھگ ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور دو تہائی ووٹ سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے ۔ اکثریت کی رائے ہی کو مان لیا جائے تو ووٹ کا کھیل ناکام ہے ۔
جب سے انسان کا وجود ہے ، تب سے اکثریت باطل کی رہی ، اقتدار اور طاقت بھی اکثریت کے ہاتھ میں رہی ، حق ہمیشہ اقلیت میں رہا اور ہمیشہ دباو کا شکار رہا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اصلاح کیلئے انبیاء کا طویل سلسلہ جاری رکھا ۔ مگر کبھی نہیں ہوا کہ اکثریت انبیاء کیطرف آن کھڑی ہوئی ہو ۔ حضرت نوحؑ سینکڑوں سال حق کیطرف بلاتے رہے ، انجام کہ چند لوگ کشتی میں سوار ہوئے اور باقی سب غرق ہوگئے ۔ یہی چند کشتی والے بھی طوفان تھمنے تک ساتھ رہے ۔ حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ کل بارہ ساتھی اور وہ بھی حکمرانوں کے خوف سے خاموش کونوں میں دبک گئے ۔ اللہ کے آخری نبیؐ کے ساتھ بھی اقلیت اور ان میں بھی زیادہ تر کسمپرسی کی حالت میں ۔ کہ کبھی آپؐ کو شعب ابی طالب میں پناہ لینا پڑی ، کبھی طائف پہ پتھر کھانے کی نوبت آئی ، حتی کہ اپنا ابائی گھر بار چھوڑنا پڑا ۔ حضرت حسینؑ کے ساتھ لگ بھگ سو لوگ اور یزید کے ساتھ ایک ان گنت افراد کا لشکر ، جانتے ہوئے بھی کہ نواسہ رسولؐ حق پہ ہیں ، عوام کی رائے یزید کے ساتھ ہوگئی بھلے وہ خوف سے تھی ، مصلحت کے تحت تھی یا سیاست کے تحت یزید نے حاصل کی ۔ گویا اکثریت ہمیشہ طاغوت کے ہاتھ میں رہی ۔ اور حق ہمیشہ امتحان میں ۔
اسوقت بھی اکثریت آزاد خیالی کے ساتھ کھڑی ہے اور اقلیت اللہ کے نظام پر تھوڑا بہت واویلا کرتی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز فتح حق ہی کو نصیب ہوگی ۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ " ایک روز " کب آئے گا ۔ اگر جہد مسلسل کی بجائے معجزوں کی تلاش جاری رکھی تو شاید وہ " ایک روز " ہم بھی نہ دیکھ سکیں اور ہماری نسلوں کو بھی نصیب نہ ہو ۔
اگر جمہوریت یعنی اکثریت کی رائے کا نظام قبول کئے رکھا تو وہ دن بھی شاید زیادہ دور نہیں ، جب دین کے ہر فیصلے اکثریت رائے سے ہوا کریں گے ، آج شراب کو قبول کیا ، کل زنا پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا ، پرسوں اگر قاتل طاقتور ہے تو اسے قتل کی اجازت بھی مل جائے گی ۔ گناہ اسوقت تک گناہ ہے جب تک اللہ کا قانون لاگو ہے ، جب اکثریت کے فیصلے پر سر جھکانے کی عادت پکی ہوگئی تو گناہ ، گناہ نہیں ثواب بن جائے گا ۔ ناچ گانا ثقافت ہو جائے گا اور نماز روزہ پرانے وقتوں کی مجبوری کہلائے گا ۔
کیا ہم اس کا انتظار کرتے رہیں گے؟ یا اسے روکنے کا تردد بھی کریں گے ؟
آزاد ھاشمی
١٤ دسمبر ٢٠١٨
Saturday, 15 December 2018
اکثریت کیا چاہتی ہے؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment