Tuesday, 11 December 2018

اھدنا الصراط المستقیم

" اھدنا الصراط المستقیم "
ہم ہر نماز میں کئی کئی بار اللہ سبحانہ تعالی سے دعا کرتے ہیں .
اے اللہ تو رب العالمین ہے . تو رحمان ہے رحیم ہے . ہماری مدد فرما کہ ہمیں صراط المستقیم پر چلا , سیدھے راستے پہ چلنے کی ہدایت فرما . صراط المستقیم دکھا .
دعا میں نہ شعور شامل نہ توجہ اور نہ ہی ارادہ . اللہ سے مانگتے ہوئے بھی دنیا داری کے مکر اور چالاکیاں . اللہ ارادوں کو جانتا ہے , دل کے بھیدوں سے اگاہ ہے . نیت سے واقف ہے . وہ جانتا ہے کہ ہماری یہ دعا ایک رسم کی طرح ادا ہو رہی ہے . یہ دعا صرف زبان کی ادائیگی تک محدود ہے . اللہ نے صراط مستقیم اور ہدایت کیلئے بالکل عام فہم , بلیغ اور آسان زبان میں اپنی کتاب نازل فرمائی جو صراط مستقیم کی کھول کھول کر وضاحت کرتی ہے . اپنے حبیب کو بھیجا , جس کے اسوہ سے ایک ایک لمحہ صراط مستقیم کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے . آل نبی کی زندگیاں اور شہادتیں صراط مستقیم کی پہچان کیلئے کافی ہیں . پھر وہ کونسی کمی باقی رہ گئی کہ ہمیں صراط مستقیم نظر نہیں آتی . ہم گمراہوں اور مغضوبین کو رہنما بنائے بیٹھے ہیں , انکی زندگیاں ہماری خواہشات کی اولین ترجیحات ہیں . اللہ کی دکھائی ہوئی راہ , بنائے ہوئے قوانین , عمل کے راستے اور حدود کو چھوڑ کر انسان کے علم و فکر کی راہیں اختیار کر رکھی ہیں . اس دوغلے پن سے ہم جو بھی کہتے ہیں . نہ اللہ سنتا ہے نہ قبول فرماتا ہے . یہی وجہ ہے کہ ہمارے رکوع , ہمارے سجدے ہماری دعائیں سب ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں . نہ زہد باقی , نہ عبادت نہ ریاضت . قران نازل فرمایا پڑھنے , سمجھنے اور عمل کیلئے . ہم نے اسے طاق میں رکھا اور مسالک پر تحقیق شروع کر دی . اور صراط مستقیم کی ہدایت مانگ رہے ہیں . اس دورخی پر وہی ہونا چاہئیے تھا جو ہو رہا ہے . بیت المقدس پر یہود کا تسلط , حرمین شریفین کے خادمین پر عیسائیوں کے ارادوں کا اثر . امن کی جگہیں عبادت گاہیں ہوا کرتی تھیں اب خوف کی جگہیں بن گئیں . مساجد اللہ کا گھر , جو چاہے اللہ کی عبادت کرے , اب مساجد مسالک کی ہو گئیں . سب یہی کہتے ہیں .
" اھدنا الصراط المستقیم "
مگر کوئی نہیں پڑھتا .
" واعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو "
ازاد ھاشمی
11 دسمبر 2017

No comments:

Post a Comment