" اتنا ظلم مت کرو "
ہم اللہ کے کرم کا جتنا بھی شکر ادا کریں . اسکی ایک رحمت کا شکر ادا نہیں کر سکتے کہ اس نے ہمیں مسلمان امت میں پیدا کیا . مگر ہم کیا کر رہے ہیں اور کس رستے پہ چل نکلے ہیں . چند روز پہلے تحریک تحفظ ختم نبوت , کے زعماء نے , بالخصوص امیر تحریک نے جو زبان استعمال کی , وہ کسی بھی طور ایک عالم دین کو زیب نہیں دیتی . یہ آغاز ہے اس بے لگامی کا کہ جب ہر کوئی اس لہجے کو جائز سمجھ لے گا . پھر آہستہ آہستہ یہ ہماری روایت بن جائیگا . یہ طریقہ کسی بھی باشعور انسان کو اچھا نہیں لگے گا . ایک روز تو محترم نے یہاں تک کہہ دیا کہ صحابہ کرام تو آپ صل اللہ علیہ وسلم کے پیشاب سے شفا حاصل کرتے تھے . یہ علم انہیں کہاں سے ملا , کونسی حدیث کو اس سے جوڑا گیا . تعجب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا , تعجب یہ ہے کہ اس بیان پر کوئی مفتی , کوئی مدرس , کوئی فقیہہ اور نہ ہی میڈیا کو ذرہ برابر تلملاہٹ ہوئی . کئی گدی نشینوں نے بھی سنا مگر کسی ایک نے اسے خرافات نہیں کہا . ایسی بے شمار کہانیاں مولانا طارق جمیل بھی مذہب کا اور تبلیغ کا حصہ بنا رہے ہیں . لیکن انکا طرز تکلم مہذب ہوتا ہے اسلئے سمجھ آنے تک روایت اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے .
آج عید میلاد النبی پر باقاعدہ نوجوانوں کو بیہودہ ڈانس کرتے دیکھا گیا .
خدارا اللہ کے پاک حبیب کی مناسبت سے ایسی بیہودگی مت پھیلاو . اتنا ظلم نہ کرو کہ اللہ تمہیں بھی معتوب کر ڈالے . میلاد النبی کی عید , خوشی اور عقیدت کا اظہار حدوداللہ کے اندر رہ کر کرو . حمد کرو , ذکر کرو , اسوہ رسول کی محفلیں منعقد کرو , خوش لباسی کرو . ہر وہ خوشی کرو جو آپ کی شان کے مطابق ہو . راگ , رنگ , ڈھول تماشا آپ کی عظمت کی نفی ہے .
ازاد ھاشمی
Monday, 3 December 2018
اتنا ظلم مت کرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment