Wednesday, 28 November 2018

قاضی کی آنکھ مچولی

" قاضی کی آنکھ مچولی "
جس ملک میں عدلیہ کرپٹ ہو جائے ، اس ملک میں " جس کی لاٹھی اسکی بھینس " ہوا کرتی ہے ۔ انارکی ، بدامنی اور کرپشن کا جن بوتل سے باہر آجاتا ہے ۔ کرپشن کے معانی اور مفہوم ، صرف رشوت ستانی تک محدود نہیں ہوتے ۔ اپنے فرائض سے کوتاہی بھی کرپشن ہی ہے ۔ عدالتی فیصلوں میں تساہل ، صوابدیدی اختیارات کا ایسا استعمال جو قانون کے متضاد ہو اور قانون سے ناواقفین کا کرسیوں پر براجمان ہونا بھی کرپشن ہی ہے ۔ اپنے سے اعلیٰ کا اثر قبول کرنا بھی عدالتی کرپشن ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان کی عدالتی تاریخ ایسے کارناموں سے بھری پڑی ہے ۔ کئی بے قصور پھانسی پہ لٹک گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے قصور تھے ۔ بھٹو ایک قتل میں ملوث قرار دے کر پھانسی چڑھ گیا اور سینکڑوں افراد کا قاتل آزاد گھوم رہا ہے ۔ کئی اعلیٰ عدالتوں کے قاضی متنازعہ ہیں ۔ بالخصوص آخری دو چیف جسٹس تو عجیب شعبدہ باز نظر آئے ہیں ، جو اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر سیاسی عدل کرنے پر زیادہ متحرک رہے ۔ انصاف کا بول بالا تو نہیں ہوا ، البتہ بیشمار ہیجان نے جنم لے لیا ۔ ہر ادارہ خوفزدہ ہے کہ نہ جانے کب چیف صاحب کا بریگیڈ وہاں آ دھمکے اور جرائم کی فہرست دروازے پر لگا کر چلا جائے ۔ عملی طور پہ کیا ہوا ، نتائج کیا نکلے ، صرف یوں لگتا ہے کہ کسی محلے کا " نورا یا شیدا " بھڑکیں مارتا پھرتا ہے ۔ مگر کرتا کراتا کچھ نہیں ۔ موصوف کی بھڑکوں کے چند دن باقی ہیں اور پھر حسب معمول ایک پنڈورا بکس کھلے گا ، کوئی " تھو تھو " کرے گا ، کوئی ثبوت اٹھائے پھرے گا ، اور کچھ رنگین مزاج تماش بین کا رول ادا کریں گے ۔ کچھ میرے جیسے " بڈھے خبطی " اپنا فشار خون بلند کریں گے ۔ کئی صحافی بھی کسی نہ کسی کا لفافہ ہاتھ میں تھام کر " منہ سے جھاگ " اگلتے نظر آئیں گے ۔ یہ آنکھ مچولی ختم ہوگی تو کوئی دوسری شروع ہو جائے گی ۔ ڈاکو ، لٹیرے ، قاتل اور ملک دشمن دندناتے پھریں گے ۔ علماء ، اساتذہ اور انصاف کا شور مچانے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا ۔ عدالت فیصلے لکھے گی اور جو گلا پھندے پہ پورا اترے گا ، اسی گلے میں پھندہ ہو گا ۔ موصوف سے نہ ڈیم بنا ، نہ عدالتیں سدھریں ، نہ لوٹی رقم واپس آئی اور نہ ہی کوئی ادارہ راہ راست پہ آیا ۔ ہاں ایک فساد چھوڑ کر رخصتی لے لی ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment