Tuesday, 27 November 2018

میلاد النبیؐ پر ہی بحث کیوں ؟

"میلاد النبیؐ پر ہی بحث کیوں؟ "
ہم مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ ہے کہ ہم مسالک کو ضد بنا کر چل رہے ہیں ۔ فطرت کا اصول ہے کہ ہر انسان کا شعور و آگہی مختلف ہوتا ہے ۔ ہم نے یقین بنا لیا ہے کہ جس بھی مکتبہ فکر سے جڑے بیٹھے ہیں ، اسکے اکابرین نے جو کہہ دیا ، وہ ہی ایمان کا لازمی حصہ ہے ۔ اور اسکے دلائل اکٹھے کرنے کو ایمان بنا لیتے ہیں ، ستم در ستم یہ ہے کہ جس معاملے میں دلائل نہ ملیں ، اس پر خود دلائل گھڑ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔  جنہیں ضعیف احادیث کہا جاتا ہے ،  یہ ایسے ہی گھڑے ہوئے دلائل کے کام آتی ہیں ۔ ربیع الاول کے آغاز ہی میں
" بدعت " کا لفظ ہر زبان پہ آ جاتا ہے ۔ بدعت کے معنی اور مفہوم کو کئی رنگ دے دئیے گئے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہر وہ عمل جو قرآن میں نہیں ، اسے قرآن سے منسوب کرتے ہوئے اختیار کر لینا بدعت ہے ۔ دوسرا وہ عمل جو رسولؐ کی حیات طیبہ میں معمول میں نہیں رہا ، اسے اختیار کر لینا بدعت ہے ۔
تیسرا وہ جو صحابہ ؓ نے معمول نہیں بنایا بدعت ہے ۔ چوتھا وہ جو احادیث سے ثابت نہیں بدعت ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ان تمام تشریحات کا اصل موضوع " میلاد النبی " کا اہتمام کرنا یا پھر اس دن کو " عید " کہنا ہوتا ہے ۔
نبیؐ کے یوم پیدائش پر اس کے ذکر و درود کا خاص اہتمام کر لینا ، بدعت کیسے ہے جبکہ یہ معمول تو ہمارے روزمرہ کے فرائض کا حصہ ہے ۔ اسلام کی چند اصول ہیں جس پر کسی عمل کی پرکھ ہوتی ہے ۔ گناہ اور گناہ کبیرہ ، کفر اور شرک کی کسوٹی پر پورا اترنے والا کوئی بھی عمل اسلام میں جائز نہیں ۔ اور اسکی واضع حدود ہیں ۔ اب میلاد منانا ، اسکی خوشی کرنا ، اسکے لئے محافل کا انتظام کرنا ، گھروں کو چراغاں کرنا ، اسلام کی نظر میں گناہ کبیرہ ہے ؟ شرک ہے ؟ یا کفر ہے ؟
ظاہر ہے ان میں سے کوئی حد لاگو نہیں ہوتی ۔ رہ گئی " بدعت " کہ قرآن میں نہیں ، رسولؐ کے اسوہ کا حصہ نہیں ، صحابہؓ کے عمل میں شامل نہیں ، اسلئے بدعت ہے ۔ ہمارے زندگی کے بیشمار عمل ایسے ہیں جو بدعات کے پیمانے پر پورے اترتے ہیں ۔ جن کا حکم نہ قرآن میں ہے ، نہ رسولؐ کا اسوہ ہے ، نہ صحابہؓ کا عمل ہے ۔ اس پر شور و غوغا کیوں نہیں ؟ عید میلاد النبی تو سال میں ایک بار ہے اور جو اصل بدعات ہیں وہ روز کا معمول ہیں ۔ ان پر محققین کی نظر کیوں نہیں جاتی ۔ یوں لگتا ہے کہ مسالک کی ضد کے سوا کچھ نہیں ۔ عید میلاد النبیؐ منانے سے نہ تو اسلام کی تعلیمات پر کوئی منفی اثرات ہیں ، نہ اسلام کے اصول و ضوابط متاثر ہوتے ہیں ، نہ قرآن کی کسی آیت کا انحراف ہوتا ہے ۔ پھر اسے اسقدر بحث کا موضوع بنا دینا چہ معنی دارد؟
آزاد ھاشمی
٢٠ نومبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment