Friday, 7 December 2018

چاچا پالیسی

" چاچا پالیسی "
دوستوں کی ہر ٹولی میں ایک آدھ دوست ایسا ہوتا ہے ،  جسکا دماغ نئے نئے منصوبے تراشتا ہے اور کبھی دوست اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کبھی نقصان ۔ ہمارے گروپ میں بھی ایک ایسا ہی ہونہار دوست ہوا کرتا تھا ، جس کے پاس روز ایک نئی سکیم ہوتی تھی ۔ ہم اسے " چاچا " کہتے تھے ۔ کچھ " چاچا پالیسی " کہتے اور کچھ " چاچا آگ " بولتے ۔ روز کوئی نہ کوئی " پنگا " ہوتا جسے حل کرنا پڑتا ۔ مگر دوست تو دوست ہوتا ہے ۔ جیسا بھی ہو ، جس آگ میں بھی جھونکے ، اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا ۔
اب ہماری حکومت بھی " چاچا پالیسی " کے ہاتھ میں آگئی ہے ۔ جو بھی کرے گا ، نبھانا پڑے گا ۔
ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یار لوگ اسے نبھاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر فرما دیا کہ مرغیاں پالو ، انڈے دیں گی ، انڈے بیچو ۔ غربت کا مسلہ بھی حل ہو گا اور دیسی خوراک سے صحت کا مسلہ بھی ختم سمجھو ۔ انکار تو ممکن نہیں کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں اسی قابل شخص نے ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ جانتے ہیں کہ اب ایسے ہی چوکے چھکوں کی بھی ضرورت ہے اور ایسی باولنگ بھی کرنا ہوگی کہ کوئی بھی مزاج نازک پر بات کرے ، ٹھونس دو جیل میں ۔ دہشت گرد کہہ کر نوے سال کے بوڑھے کو بولڈ کر دو۔ بس پھر فتح کا کپ ہمارا ہے ۔
اب ایک اور خوبصورت اصطلاح نکالی ہے کہ سگریٹ پینے والوں پر " گناہ ٹیکس " لاگو کردو ۔ اس سے سب دین پرست بھی خوش ہو جائیں گے اور سگریٹ نوشی برائی بھی بن جائے گی ۔ کیا خوبصورت پالیسی ہے ۔ ہم یار لوگ تو واہ واہ کریں گے ، بھلے کوئی " تک " بنے یا نہ بنے ۔
پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسی پالیسیاں جاری رہیں تو ایک دن ہماری پالیسیوں کی دنیا " واہ واہ " کرے گی ۔ بس قوم کے جاہل تھوڑی سی " چوں چاں " کریں تو انکا علاج مشکل نہیں ۔  وطن دشمن کہو اور کسی اندھیرے کونے میں ڈال دو ۔ سمجھ آ جائے تو ٹھیک ورنہ پڑے رہیں ۔
آزاد ھاشمی
٥ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment