" بھوک لگتی ہے "
پھٹے پرانے اور گرد آلود کپڑوں میں ملبوس ننھے بہن بھائی مسجد کے صحن میں بیٹھے ، شاید کسی کا انتظار کر رہے تھے ۔ لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد میں آنا شروع ہوئے ۔ مولانا نے مسالک کے موضوع پر اپنے مخالفین کو خوب رگیدا ۔ خطبہ سے کچھ پہلے ، معصوم بچہ کھڑا ہو گیا ۔
" مولوی صاحب ۔ میرے لئے دعا کرا دیں "
مولوی صاحب نے بچے کیطرف دیکھا ۔ مسکرا کر بولے ۔
" ہاں بولو بیٹا ! کیا دعا کرانی ہے ؟ "
" مولوی صاحب ! بھوک بہت لگتی ہے ۔ میں تو برداشت کر لیتا ہوں یہ میری بہن رونے لگتی ہے ۔ دعا کر دیں کہ ہمیں بھوک نہ لگا کرے "
" تمہارے ماں باپ کہاں ہیں " مولوی صاحب نے پوچھا ۔
" نہیں ہیں ۔ اللہ کے پاس گئے ہوئے ہیں ۔ بھائی کہتا ہے روٹی لینے گئے ہیں ۔ روز یہی کہتا ہے "
بچی معصومیت سے بولی ۔
مسجد میں ایک سناٹا تھا ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔ شاید ہر کوئی اپنے احتساب میں لگ گیا تھا ۔ کہ اللہ کے رسولؐ نے جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا وہ مسالک کی لڑائی میں ہم بھول گئے ۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہا اور نہ کبھی مولوی نے یاد کرایا کہ کسی مستحق کی خبر رکھنا بھی عبادت ہے ، ہم کیوں بھول گئے ۔ یتیم تو پورے معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہم کیسے غافل ہوگئے ۔ مسجد میں سب کیا کیا سوچ رہے تھے ۔ ایک بات واضع تھی کہ ہر چہرے پر ندامت تھی ۔ حقوق العباد کی غفلت کی ندامت ۔
" بیٹا ! میں شرمندہ ہوں کہ میں نے اپنا فرض نہیں نبھایا ۔ میں لوگوں کو دین نہیں مسلک سکھاتا رہا ۔ مجھے معاف کر دو بیٹا ۔ وعدہ کرتا ہوں آج سے کوئی بھوک نہ لگنے کی دعا نہیں کرائے گا ۔ "
شاید کوئی آنکھ تھی جس پر آنسو نہیں تھے ۔
آزاد ھاشمی
٧ دسمبر ٢٠١٨
Friday, 7 December 2018
بھوک لگتی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment