Tuesday, 21 May 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے 4

اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (4) "
گذشتہ اقساط میں جمہوری عمل کے جو پہلو واضع کئے گئے ، جو ہر لحاظ سے عوام کے مفاد عامہ کی راہ میں کھلی رکاوٹ ہیں ۔تا حال جمہوری عمل کا سبق پڑھانے والے کسی ایک محقق نے حقیقت سے انکار نہیں کیا  ۔  جمہوری عمل کی چند مزید قباحتیں بھی ہیں ۔  سوال ہے کہ
٤ ۔کیا جمہوریت میں  دو طبقے جنم نہیں لے لیتے ، ایک اشرافیہ اور دوسرے عوام ؟ "
جمہوریت کی افادیت میں کہا جاتا ہے کہ
"عوام کی حکومت عوام کیلئے " ۔ اس نعرے کی حقیقت بالکل مختلف ہے ۔ بلکہ جمہوریت کے طرز انتخاب سے دو طبقے جنم لیتے ہیں ۔ ایک وہ جو اس عمل کے تحت اقتدار میں آتے ہیں اور دوم وہ جو انکو ووٹ دیتے ہیں ۔ مراعات کا سارا حق اقتدار میں آنے والوں کو ملتا ہے اور عوام کو اس طرح کا کوئی استفادہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اگر ہم پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دیکھیں تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ جمہوریت میں اقتدار چند مخصوص لوگوں کے گرد گھومتا ہے اور بطور وراثت انکی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ پاکستان  میں چند خاندان خاص علاقوں میں کئی نسلوں سے کئی سیٹوں پر قابض ہیں ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کی اکثریت انہی لوگوں کی نظر آئے گی جو خاندان سیاست کو بطور پیشہ اپنا چکے ہیں ۔ ہاں کبھی کبھی کچھ نووارد بھی دھونس دھاندلی سے ، شاطرانہ چالوں سے ، عوام کو بہکا کر اس دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر عمر بھر اسی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ۔ وہ مخلوق جو خود کو عوام کہتی ہے ، انتخاب کے بعد پانچ سال تک تماشا دیکھتی رہتی ہے ۔ پھر نئے انتخابات ہوتے ہیں اور وہی چہرے سیٹیں بدل کر دوسری سیٹوں پہ جا بیٹھتے ہیں ۔
سوال ہے کہ
٥  - کیا عملی طور پر جمہوریت میں اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے یا چند افراد کی مٹھی میں رہتا ہے ؟
نہایت دیانتداری سے تجزیہ کریں کہ جب سے جمہوریت کی دیوی نے قدم رکھا ہے ۔ کب اور کہاں ایسا ہوا کہ عوام نے کوئی فیصلہ کیا ہو اور وہ عملی طور پر لاگو ہو گیا ہو؟ عوام بہت تیر مار لیں تو احتجاج کر سکتے ہیں ، جلسے کر کے شور مچا سکتے ہیں ، جلوس نکال کر خود فریبی کر سکتے ہیں مگر اقتدار میں بیٹھے پنڈتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ وہ اپنی مدت پوری بھی کرتے ہیں اور اگلی مدت کے امیدوار بھی ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔ جاری ہے اگلی قسط ملاحظہ ہو ۔۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ۔ ١٤ ۔ ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment